براہ راست: مالی سال 20-2019 کا بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کیا جا رہا ہے

وزیر مملکت برائے ریوینیو حماد اظہر مالی سال 20-2019 کا بجٹ قومی اسمبلی میں پیش کر رہے ہیں۔
 
اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کی سربراہی میں ہونے والے اجلاس میں وزیر مملکت برائے ریوینیو حماد اظہر کا سالانہ بجٹ برائے مالی سال 20-2019 پیش کرتے ہوئے کہنا تھا کہ جب حکومت ملی تو پاکستان کا قرضہ اور ادائیگیاں 31 ہزار ارب روپے تھیں اور 97 ارب ڈالر بیرونی قرضہ تھا۔
حماد اظہر کا کہنا تھا کہ گزشتہ دو سال کے دوران اسٹیٹ بینک کے ذخائر 18 ارب ڈالر سے گر کر 10 ارب ڈالر تک رہ گئے تھے، کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بلند ترین سطح پر پہنچ چکا تھا۔
آئی ایم ایف سے 6 ارب ڈالر کا معاہدہ ہو چکا ہے، بورڈ کی منظوری کے بعد اس منصوبے پر عمل درآمد شروع ہو جائے گا، معیشت کو استحکام حاصل ہو گا اور سالانہ ترقی کی شرح میں اضافہ ہو گا۔
سعودی عرب سے فوری ادائیگی کے بغیر3.2 ارب ڈالر کا تیل درآمد کرنے کی سہولت حاصل کی گئی، اسلامی ترقیاتی بینک سے فوری ادائیگی کے بغیر تیل درآمد کرنے کی سہولت شروع کر دی ہے۔
اس سال کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں 7 ارب ڈالر اور اگلے سال ساڑھے چھ ارب ڈالر کی کمی آئے گی۔
ذرائع کے مطابق وفاقی بجٹ کا کُل حجم تقریباً 6 ہزار 800 ارب روپے ہے، 34.6 فیصد شرح سے اضافے کے ساتھ پانچ ہزار 550 ارب روپے کے ٹیکس محصولات کا مشکل ہدف حاصل کرنے کیلئے متعدد نئے ٹیکس عائد کرنے اور 750 ارب روپے کے اضافی ٹیکس لگا نے کی بھی تجویز ہے۔
آئندہ بجٹ میں بے نامی جائیدادیں رکھنے والوں کے خلاف کریک ڈاؤن کی بھی تیاریاں کی گئی ہیں، ذرائع کا کہنا ہے کہ بے نامی جائیدادوں کےخلاف اتھارٹی اور ایپلٹ ٹربیونلز کیلئے فنڈز مختص کرنےکافیصلہ کیا گیا ہے، ان اداروں کیلئے گریڈ 17 تا 21 کی 10 نئی اسامیوں کی منظوری دی جائے گی، اتھارٹی بے نامی جائیداد رکھنے والوں کو نوٹس اور جائیداد تحویل میں لےسکے گی۔
آئندہ مالی سال کے وفاقی ترقیاتی بجٹ کی تفصیلات حاصل کرلیں جس کے مطابق ترقیاتی بجٹ کی مد میں 925 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے جس میں سے 675 ارب روپے پی ایس ڈی پی اور 250 ارب روپے متبادل ذرائع سے خرچ کرنے کی تجویز ہے۔
ڈیفنس ڈویژن کے لیے 45 کروڑ 60 لاکھ روپے جب کہ دفاعی پیداوار ڈویژن کیلئے ایک ارب 70 کروڑ روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔
دستاویزات کے مطابق ہائر ایجوکیشن کیلئے 28 ارب 64کروڑ روپے کے ترقیاتی بجٹ کی تجویز ہے جب کہ ہاؤسنگ اینڈ ورکس کیلئے 3 ارب 43 کروڑ، ہیومین رائٹس ڈویژن کیلئے 12 کروڑ 29 لاکھ روپے، ایوی ایشن ڈویژن کیلئے ایک ارب 26 کروڑ اور سرمایہ کاری بورڈ کیلیے 10کروڑ روپے کے ترقیاتی بجٹ کی تجویز ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ بجٹ میں پہلے سے دی گئی رعایتیں اور سبسڈی ختم کرنے، برآمدی شعبے کیلئے زیرو ٹیکس ریٹ کے خاتمے، محاصل کا دائرہ کار وسیع کرنے اور جی ڈی پی میں ٹیکسوں کا حصہ 3 فی صد سے زیادہ بڑھانے کی تجویز بھی ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ ٹیکس بیس بڑھا کر 550 ارب روپے جب کہ اثاثہ جات ظاہر کرنے کی اسکیم سے ایک سو ارب روپے ملنے کا امکان ہے جب کہ دفاعی بجٹ کیلئے 12 سے 13سو ارب روپے اور ترقیاتی بجٹ کیلئے 925 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے۔
ذرائع کے مطابق بجٹ میں بجلی اور سماجی شعبے کیلئے 406 ارب روپے کی سبسڈی مختص کرنے کی تجویز ہے۔
ایف بی آر کی کارکردگی بہتر بنا کر 220 ارب روپے کے اضافی ٹیکس جمع کرنے کا ہدف ہے، مہنگائی کی شرح میں اضافے سے 500 ارب روپے اور ٹیکس رعایتیں ختم ہونے سے 200 ارب حاصل ہونے کی توقع ہے۔