وزیراعظم کا کرپشن کا پتہ لگانے کیلئے اعلیٰ سطح کا کمیشن بنانے کا اعلان

پاکستان تحریک انصاف کی حکومت نے اپنا پہلا وفاقی بجٹ پیش کیا جس کے بعد وزیراعظم عمران خان قوم سے خطاب کررہے ہیں۔
قوم سے خطاب میں وزیراعظم عمران خان کا کہنا تھا کہ تحریک انصاف نے پہلا بجٹ پیش کیا، یہ بجٹ نئے پاکستان کے نظریے کی عکاسی کرےگا اور نیا پاکستان ریاست مدینہ کے اصولوں کے تحت بنے گا۔
انہوں نے کہا کہ مدینہ کی ریاست جدید ریاست تھی، مدینےکی ریاست کے اصول مغربی ممالک میں ہیں، مدینے کی ریاست کے اصول برابری کی بنیاد پر بنے تھے، مدینہ کی ریاست کی وجہ سے مسلمانوں نے دنیا کی امامت کی۔
ان کا کہنا ہے کہ جب سے اقتدار ملا ہے تو پہلے دن سے مخالفین کہتے ہیں کہاں ہے نیا پاکستان؟ بڑے بڑے برج جو آج جیل کے اندر ہیں، یہ تبدیلی ہے، پاکستان میں کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا اتنے بڑے برج جیل میں ہوں گے، یہ ہے قانون کی بالادستی جو آہستہ آہستہ نظر آرہی ہے۔
وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ نیب میرے نیچے نہیں، آج کی عدلیہ آزاد ہے، نیب کا چیئرمین ہمارا لگایا ہوا نہیں بلکہ ن لیگ اور پیپلزپارٹی نے لگایا ہے۔
انہوں نے کہا کہ پہلے دن سے اپوزیشن نے مجھے پارلیمنٹ میں تقریر نہیں کرنے دی، اپوزیشن پر کیسز میں نے نہیں بنائے، آصف زرداری کے خلاف میگا منی لانڈرنگ کا کیس (ن) لیگ نے بنایا، شہبازشریف کے خلاف بھی کیس ہم نے نہیں بنایا۔
ان کا کہنا ہے کہ اپوزیشن کے خلاف کیسز پی ٹی آئی نے نہیں بنائے پھر شور کیوں مچاتے ہیں؟ اپوزیشن چاہتی ہے ان کو این آر او دیا جائے، دو این آر اوز کی قیمت ملک نے ادا کی، ن لیگ اور پیپلزپارٹی نے میثاق جمہوریت پر دستخط کیے، میثاق جمہوریت سے دونوں جماعتوں نے طے کیا تھا ایک دوسرے کومدت پوری کرنے دیں گے اور دونوں نے کھل کر کرپشن کی۔
وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آج شور مچ رہا ہے کہ زرداری جیل میں ہے، ن لیگ اور ،پیپلزپارٹی اکٹھی ہوگئی، ن لیگ نے اپنے دور میں آصف زرداری کو جیل میں ڈالا تھا، ان دونوں کی حکومتیں کرپشن کی وجہ سے ختم ہوئیں۔
انہوں نے کہا کہ 2008 کے بعد ملک پر جو قرضہ چڑھا، اس کی وجہ دونوں جماعتوں کی کرپشن ہے، دونوں جماعتوں نے کرپشن کرکے پیسا ہنڈی کے ذریعے باہر بھجوایا، ن لیگ نے 10 سال میں چار کمپنیوں سے تیس کمپنیاں بنائیں، زرداری کی ایک سو ارب روپے کی منی لانڈرنگ سامنے آئی، ایک خاتون پانچ لاکھ ڈالرز باہر لے جاتے ہوئے پکڑی گئی۔
ان کا کہنا ہے کہ پرویز مشرف کے 8 سال کے دور میں 2 ارب ڈالرز کا غیرملکی قرضہ بڑھا لیکن دس سالوں میں ملکی قرضہ چھ ہزار ارب روپے سے 30 ہزار ارب روپے ہوگیا۔
قوم سے خطاب میں وزیراعظم نے 10 سال کی کرپشن کا پتہ لگانے کیلئے اعلیٰ سطح کا کمیشن بنانے کا اعلان کیا۔
خیال رہے کہ وفاقی حکومت نے مالی سال 20-2019 کے لیے 70 کھرب 22 ارب روپے کا بجٹ پیش کردیا ہے۔
تقریباً 50 فیصد خسارے کے اس بجٹ میں 11 کھرب روپے سے زائد کے نئے ٹیکس لگائے گئے ہیں جن سے چینی، کوکنگ آئل، سیگریٹ، گیس اور گاڑیوں سمیت متعدد اشیاء مہنگی ہو جائیں گی۔
وفاقی بجٹ میں فیڈرل بورڈ آف ریونیو کیلئے 55 کھرب 55 ارب روپے کی ٹیکس وصولیوں کا ہدف رکھا گیا ہے جو کہ گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 25 فیصد یعنی 11 کھرب 20 ارب روپے زیادہ ہے۔
اس سلسلے میں گزشتہ برس کی نسبت بلاواسطہ ٹیکس کی مد میں 3 کھرب 46 ارب روپے اور 7 کھرب 73 ارب روپے بلواسطہ ٹیکس کی مد میں بڑھائے گئے ہیں۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ 20-2019 کے وفاقی بجٹ میں گزشتہ مالی سال کی نسبت 4 کھرب 77 ارب روپے کے اضافی سیلز ٹیکس، 3 کھرب 63 ارب روپے کے اضافی انکم ٹیکس، 2 کھرب 65 ارب روپے کی اضافی کسٹمز ڈیوٹیاں اور 99 ارب روپے کی اضافی فیڈرل ایکسائز ڈیوٹیاں عائد کی جائیں گی۔
نئے مالی سال کے بجٹ میں گھی، خوردنی تیل ، چینی ، دودھ ، خشک دودھ ، کریم مہنگی کر دی گئی، سیمی پراسیس اور پکے ہوئے چکن، مٹن، بیف، مچھلی پر بھی سیلز ٹیکس بڑھا دیا گیا۔ گاڑیاں ، سیمنٹ ، ماربل، ایل این جی، سی این جی اور سگریٹ بھی مہنگے کر دیے گئے۔
پھلوں کے جوس، سیرپس، اسکوائشز، کولڈ ڈرنکس پر ٹیکس بڑھا نے کی تجویز جبکہ سونا ، چاندی اور ہیروں کی درآمد پر بھی ایکسائز ڈیوٹی عائد کی جائے گی۔