برطانیہ کے وزیر اعظم کی دوڑ، پہلے مرحلے میں بورس جانسن کامیاب

بورِس جانسن نے برطانیہ کے نئے وزیر اعظم کے لیے ہونے والی ووٹنگ کے پہلے مرحلے میں کامیابی حاصل کرلی۔
تھریسا مے کے استعفے کے بعد ملک کے نئے وزیر اعظم کی دوڑ میں شامل امیدواروں نے تعداد 10 سے کم ہو کر 7 رہ گئی ہے۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے ‘اے ایف پی’ کے مطابق بریگزٹ کے حامی سابق وزیر خارجہ بورس جانسن نے برطانوی دارالعوام کے ایوان زیریں میں کنزرویٹو پارٹی کے قانون سازوں کی خفیہ ووٹنگ میں ڈالے جانے والے 313 میں سے 114 ووٹ حاصل کیے۔
برطانیہ کے وزیر اعظم کے لیے 2016 میں ہونے والی ووٹنگ میں دوسرے نمبر پر رہنے والی اینڈریا لیڈسَم، مارک ہائیپر اور ایستھر مِک وے مطلوبہ 17 ووٹ حاصل کرنے میں ناکام رہے اور وزارت عظمیٰ کی دوڑ سے باہر ہوگئے۔
بورس جانسن کے ترجمان نے صحافیوں کو بتایا کہ ‘ہم یقیناً اب تک کے نتائج سے خوش ہیں لیکن مقابلہ جیتنے کے لیے ابھی طویل سفر باقی ہے۔’
انہوں نے کہا کہ ‘آپ کو اگلے مرحلے میں بھی کامیابی کے لیے ووٹ کی یہ تعداد برقرار رکھنا ضروری ہے جو ایک چیلنج ہے، حتمی دو امیدواروں میں شامل ہونے کے لیے بورس جانسن کو مقابلے کے اگلے مراحل میں 105 سے زائد ووٹ لینا ضروری ہے۔’
وزارت عظمیٰ کے لیے آخری دو امیدواروں میں سے ایک کے انتخاب کے لیے ملک بھر میں کنزرویٹو پارٹی کے ایک لاکھ 60 ہزار اراکین ووٹ دیں گے۔
آخری مرحلے میں کامیاب ہونے والا امیدوار پارٹی کا نیا سربراہ ہوگا اور ساتھ ہی تھریسا مے کی جگہ ممکنہ طور پر جولائی کے آخر میں ملک کا نیا وزیر اعظم بنے گا۔
برطانیہ کے موجودہ وزیر خارجہ جیریمی ہَنٹ مقابلے کے پہلے مرحلے میں 43 ووٹ کے ساتھ دوسرے، وزیر ماحولیات مائیکل گوو 37 ووٹ کے ساتھ تیسرے اور سابق وزیر بریگزٹ ڈومینِک راب 27 ووٹ کے ساتھ چوتھے نمبر پر رہے۔
سیکریٹری داخلہ ساجد جاوید 23 ووٹ کے ساتھ پانچویں، سیکریٹری ہیلتھ میٹ ہینکوک 20 ووٹ کے ساتھ چھٹے اور انٹرنیشنل ڈیولپمنٹ سیکریٹری روری اسٹیورٹ 19 ووٹ کے ساتھ چھٹے نمبر پر رہے۔