آصف زرداری کی طبیعت ناساز، راولپنڈی انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی منتقل

نیب کی حراست میں موجود سابق صدر آصف علی زرداری کو طبعیت ناساز ہونے کے بعد راولپنڈی انسٹیٹیوٹ آف کارڈیالوجی منتقل کر دیا گیا۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ آصف زرداری کو شوگر لیول میں کمی اور بلڈ پریشر کی بھی شکایت ہے۔
ذرائع کا بتانا ہے کہ ماہر امراض قلب ڈاکٹر اظہر کیانی کو آصف زرداری کے چیک اپ کے لئے راولپنڈی انسٹیٹیوٹ آف کارڈیا لوجی بلایا گیا جہاں انہوں نے صدر پیپلز پارٹی کا طبی معائنہ کیا۔
دوسری جانب نیب حکام کا کہنا ہے کہ آصف زرداری کا یہ معمول کا طبی چیک اپ ہے۔
ترجمان پیپلز پارٹی کا مؤقف ہے کہ آصف زرداری کی طبیعت ناسازی سے متعلق انہیں اب تک اطلاع نہیں دی گئی۔
خیال رہے کہ نیب نے 10 جون کو سابق صدر آصف علی زرداری کو اسلام آباد سے گرفتار کیا تھا۔
نیب حکام کی جانب سے 11 جون کو آصف علی زرداری کو احتساب عدالت میں پیش کیا گیا جہاں سے ان کا 10 روزہ ریمانڈ حاصل کیا۔
نیب کی طرف سے آصف زرداری کو گرفتار کرنے کی 8 بنیادی وجوہات کی تفصیلات
نیب نے اپنی دستاویزات وجوہات بیان کرتے ہوئے بتایا ہےکہ آصف زرداری پر رقوم اپنے ساتھیوں، بے نامی داروں اور فرنٹ مینوں کے ذریعے لانڈر کرنے کا الزام ہے، رقوم فراڈ منتقلیوں کے ذریعے بینک اکاؤنٹس میں منتقل کی گئیں، فراڈ منتقلیوں کے ذریعے رقم منتقل کرنے میں بینک حکام بھی ملوث تھے، جعلی اکاؤنٹس کے تجزیے میں پتہ چلتا ہے کہ منتقلیوں اور آپریشن کو دور سے کنٹرول کیا گیا۔
نیب دستاویزات میں مزید بتایا گیا ہےکہ ملزم نے اس سے حتمی فائدہ اٹھایا، ملزم کے غیر قانونی بے نامی داروں، ساتھیوں، ملازمین نے کمیشن اور کک بیکس کو فراڈ قرضوں اور غیر قانونی فائدوں میں ظاہر کیا، ان رقوم کو مشکوک منتقلیوں کے ذریعے لانڈرنگ مقاصد کے لیے بینک میں دوبارہ انویسٹ کرایا گیا۔
دستاویزات کے مطابق سابق صدر زرداری کے فرنٹ مین اے جی مجید کے ذریعے بینک میں مفادات تھے، ثبوتوں سے ظاہر ہوتا ہے جعلی اکاؤنٹس اور خود کے درمیان اومنی گروپ کو رکھا گیا، اس کا مقصد جعلی اکاؤنٹس اور اپنے درمیان فاصلہ رکھنا تھا، آصف زرداری نے اومنی گروپ کے ذریعے جعلی اکاؤنٹس کھولے، ان میں بھاری رقوم ڈالیں اور نکالیں۔