آصف زرداری کے پروڈکشن آرڈر جاری نہ ہونے پر ہنگامہ آرائی، پرویز اشرف کی شدید تنقید

قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر نے قومی اسمبلی کے بجٹ سیشن میں پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری کے پروڈکشن آرڈر جاری نہ ہونے کے تنازع پر قومی اسمبلی میں ہنگامہ آرائی کی وجہ سے اجلاس دوسری مرتبہ ملتوی کردیا۔
پی پی پی کے رہنما راجہ پرویز اشرف کو پوائنٹ آف آرڈر پر ڈائس ملنے پر حکومتی اراکن نے شدید احتجاج کیا۔
راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ سابق صدر اور پی پی پی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری پارلیمنٹ سے محض 3 کلومیڑ کے فاصلے پر موجود ہیں اور پارلیمنٹ کے اہم اجلاس میں ان کی عدم موجودگی اچھی روایت تصور نہیں کی جائے گی۔
اس دوران حکومتی بنچوں سے مسلسل احتجاج جاری رہا اور اسپیکر قومی اسمبلی اسپیکر ایوان میں نظم و ضبط قائم رکھنے کی ہدایت کرتے رہے۔
سابق وزیراعظم راجہ پرویز اشرف نے کہا کہ حکومتی بنچوں کی جانب سے رویہ درست نہیں ہے، انہیں ذمہ دارانہ رویہ اختیار کرنا چاہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کنٹینر دینے کی بات کرنے والے اپوزیشن کو ڈائس ملنے پر آگ بگولہ ہور ہے ہیں۔
اس دوران وفاقی وزیر برائے انسانی حقوق ڈاکٹر شیریں مزاری نے کہا کہ ’مسلم لیگ (ن) کے رہنما شہباز شریف کی طرح ہمیں بھی آئندہ ڈائس دیا جائے‘۔
اس پر اسپیکر اسد قیصر نے کہا کہ ’جس کو ضرورت ہوگی اسے ڈائس دیا جائےگا‘۔
مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف نے اسپیکر قومی اسمبلی سے استدعا کی تھی راجہ پرویز اشرف کو بات کرنے دیں۔
انہوں نے کہا کہ تحریک انصاف کے رہنما حکومت کی بنجز پر بیٹھ کر مضحکہ خیز باتیں کررہے ہیں، حکومتی رہنماؤں کے لیے تربیتی پروگرام شروع کیا جائے۔
قومی اسمبلی کے اسپیکر اسد قیصر نے قومی اسمبلی کا اجلاس پہلے 10 منٹ کے لیے ملتوی کیا۔
جب قومی اسمبلی کا اجلاس دوبارہ شروع ہوا تو قومی اسمبلی کا ماحول شور شرابے کی نذر ہوگیا جس پر اسپیکر قومی اسمبلی نے اجلاس 2 بجے تک ملتوی کردیا۔
خیال رہے کہ 10 جون کو قومی احتساب بیورو (نیب) کی ٹیم نے اسلام آباد ہائی کورٹ میں درخواست ضمانت مسترد ہونے کے بعد آصف علی زرداری کو زرداری ہاؤس اسلام آباد سے گرفتار کرلیا تھا۔
ذرائع ابلاغ کی رپورٹ کے مطابق آصف زرداری قومی اسمبلی سے اپنی گرفتاری دینا چاہتے تھے تاہم انہوں نے بعد میں اپنا فیصلہ تبدیل کرتے ہوئے زرداری ہاؤس سے ہی گرفتاری دینے کا فیصلہ کیا۔