پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار قومی اسمبلی کا اجلاس حکومتی ارکان کے احتجاج کی وجہ سے روکا

عمومی طورپر قومی اسمبلی یا سینیٹ کا اجلاس اپوزیشن کے احتجاج یا کورم پورا نہ ہونے کی وجہ سے معطل کرنا پڑتا ہے لیکن پہلی بار تحریک انصاف کی حکومت میں پی ٹی آئی کے اراکین کے احتجاج پر ہی اسپیکر قومی اسمبلی اسد قیصر کو اجلاس ملتوی کرنا پڑگیا۔
تفصیلات کے مطابق بجٹ سیشن کا پہلا اجلاس شروع ہوا تو سپیکر نے اپوزیشن لیڈر شہبازشریف کو تقریر کیلئے ڈائس دلائی جس پر حکومتی بینچوں نے احتجاج شروع کردیا اور شیریں مزاری نے استفسار کیا کہ کیا یہ کوئی نیا رول بن گیا ہے ، کیا ڈائس ہمیں بھی دیاجائے گا ، پہلے یہ ہمیں ٹی ٹی کا جواب دیں، یہ قابل قبول نہیں جس پر سپیکر اسد قیصر کاکہناتھاکہ جس کو ضرورت ہوگی ، دیں گے ، فکر نہ کریں اور شہبازشریف کو بولنے کی ہدایت کردی تاہم شہبازشریف کی درخواست پر سابق وزیراعظم اور پیپلزپارٹی کے رہنما راجہ پرویز اشرف کو پوائنٹ آف آرڈر پر بولنے کی اجازت دیدی گئی ۔
راجہ پرویزاشرف کاکہناتھاکہ اپوزیشن لیڈر نے بجٹ تقریر شروع کرنی ہے لیکن زیادہ دیر نہیں لوں گا، اس ایوان کے کچھ فاضل ممبران کے پروڈکشن آرڈر جاری نہیں ہوئے ، زرداری صاحب تین منٹ کی مسافت پر اسلام آباد میں موجود ہیں۔ اس دوران حکومتی بینچوں سے نعرہ بازی شروع ہوگئی اور چار سے پانچ اراکین اسمبلی اپنے بینچ چھوڑ کر سپیکر کی ڈائس کے سامنے پہنچ گئے ۔ انہیں دیکھتے ہی راجہ پرویزاشرف نے کہا کہ یہ ایوان کیسے چلے گا، حکومتی بنچوں کا رویہ غیرمناسب رویہ ہے ، اہم اجلاس میں ان کا موجود نہ ہونا ، پروڈکشن آرڈر جاری نہ ہونا، اس ہاؤس میں اچھی روایت نہیں شمار ہوگی ، حکومتی بینچوں کو ذمہ دارانہ رویہ کا ثبوت دینا چاہیے ، ہاؤس میں شور کریں گے تو اس کے تقدس کو خراب کریں گے ، کنیٹیر دینے کی بات کرتے تھے لیکن ڈائس پر بھی گھبراگئے ، اس اسمبلی کو کنٹینر نہ بنائیں، ذمہ داربنیں اور حکومتی بینچوں پر بیٹھ کر اس قسم کی مضحکہ خیز باتیں کرتے ہیں، ان کیلئے تربیت کا بندوبست ہونا چاہیے ۔
اس دوران حکومتی اراکین مسلسل احتجاج اور نعرے بازی کرتے رہے ، سپیکر ’آرڈر ان دی ہائوس، نوکراس ٹاک پلیز‘ کی گردان کرتے رہے لیکن ہنگامہ آرائی نہ رک سکی جس پر اسد قیصر نے اجلاس ملتوی کردینے کی دھمکی دیدی اور تھوڑی دیر بعد ہی اجلاس ملتوی کردیا۔