چند لوگ ہوا بھی کھائیں تو موٹے، کچھ لوگ کھا کھا کر بھی پتلے آخر کیوں؟ بالآخر سائنس نے پتہ لگا لیا

ایک عجیب و غریب بات ہے کہ کچھ لوگ جو جی چاہے، کھاتے ہیں اور پھر بھی دبلے پتلے رہتے ہیں لیکن کچھ لوگوں کے لیے پانی بھی دیسی گھی ثابت ہوتا ہے اوروہ معمولی خوراک کھانے سے بھی بہت موٹے ہو جاتے ہیں۔ اب بالآخر سائنسدانوں نے اس کا راز دریافت کر لیا ہے۔
تفصیلات کے مطابق برطانیہ کے کنگز کالج لندن، سٹین فورڈ یونیورسٹی اور امریکہ کے میساچوسٹس ہاسپٹل کے سائنسدانوں نے یہ معمہ حل کرنے کے لیے اس موضوع پر اب تک کی مہنگی ترین تحقیق کی ہے جس پر 2کروڑ 10لاکھ پاﺅنڈ (تقریباً 4ارب 5کروڑ 71لاکھ روپے)لاگت آئی ہے۔ یہ تحقیق دو جڑواں بہنوں کنگا اور کیٹا ویرانئی پر کی گئی ہے جو لندن کی رہائشی ہیں۔ ان کے علاوہ 1100لوگ اور بھی اس تحقیق کا حصہ تھے اور ان میں سے بھی زیادہ تر جڑواں بہن بھائی تھے۔ ان میں سے ایک بہن سب کچھ کھا کر بھی دبلی پتلی رہتی تھی جبکہ دوسری سخت ڈائٹنگ کے باوجود موٹاپے کا شکار تھی۔
سائنسدانوں نے ان کے بازوﺅں پر مانیٹر لگائے جو مہینوں تک 24گھنٹے کے لیے ان کے بازوﺅں پر رہے۔ یہ مانیٹر ان بہنوں کے خون میں گلوکوز کے لیول میں آنے والی تبدیلی کو ریکارڈ کرتے تھے۔ اس کے علاوہ ڈاکٹر ہر چند گھنٹے بعد ان کے بلڈ ٹیسٹ کرتے جن میں چکنائی کے لیول، میٹابولزم، کمپاﺅنڈز اور دیگر تمام عوامل کا مشاہدہ کیا جاتا جو کسی شخص کے موٹاپے کا سبب بنتے ہیں۔
اس طویل اور مہنگی ترین تحقیق کے نتائج میں سائنسدانوں نے بتایا کہ کوئی شخص کیسی خوراک کھاتا ہے اور اس میں کتنی کیلوریز ہوتی ہیں، یہ اس شخص کے موٹے ہونے یا نہ ہونے کے حوالے سے بہت حد تک بے معنی بات ہے۔ حقیقت میں کسی شخص کے جسم میں خوراک سے توانائی بننے تک کے مراحل کس طرح وقوع پذیر ہوتے ہیں، خون میں گلوکوز اور چکنائی وغیرہ کیسے ٹوٹتی ہیں اور ان کا جسم خوراک کے معاملے میں کیا عمل سرانجام دیتا ہے، یہ باتیں موٹا ہونے یا نہ ہونے کے حوالے سے اہم ہیں۔
ایک خوراک ایک شخص کے جسم میں جا کر جس طرح کا ردعمل دے گی، دوسرے شخص کے جسم میں وہ مختلف ہو گا، چنانچہ ہر شخص کو متناسب جسم رکھنے کے لیے مختلف قسم کی خوراک کی ضرورت ہوتی ہے۔ کسی شخص کے خون میں شوگر اور چکنائی کے ساتھ کیا ہوتا ہے، اسی پر اس شخص کے موٹا ہونے، دل کے امراض، دوسری قسم کی ذیابیطس اور دیگر امراض کا انحصار ہوتا ہے۔
تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ پروفیسر ٹم سپیکٹر کا کہنا تھا کہ ”تحقیق میں ہم نے دو جڑواں لڑکیوں کو یکساں کیلوریز کی حامل خوراک دی لیکن اس خوراک نے دونوں پر مختلف طرح کا ردعمل دیا۔
یہ امر ہمارے لیے بھی حیران کن تھا کہ کیسے کاربوہائیڈریٹس اور چکنائی مختلف لوگوں کے جسم میں مختلف طریقے سے عمل سرانجام دیتی ہیں، اس سے بھی زیادہ حیران کن بات یہ ہے کہ لوگوں میں خوراک کی عمل پذیری کا یہ فرق غیرجینیاتی ہے۔کنگا اور کیٹا دونوں جینیاتی طور پر جڑواں تھیں، چنانچہ اگر جسم میں خوراک کی عمل پذیر کا یہ فرق جینیاتی ہوتا تو ان دونوں بہنوں میںعمل پذیری مختلف نہیں ہوتی۔
تحقیقاتی ٹیم کی رکن ڈاکٹر سارا بیری کا کہنا تھا کہ ”اس تحقیق کے نتائج میں مجھے حیران کر دیا۔ یہ خیال میرے لیے بہت پریشان کن بھی تھا کہ مختلف مصنوعات کی پیکنگ پر کمپنیاں کاربوہائیڈریٹس، چکنائی اور دیگر اجزاءکی مقدار تحریر کرتی ہیں، کیا وہ فضول ہے؟ جب کسی شخص کو موٹاپا لاحق ہونے اور مختلف بیماریوں کا شکار ہونے میں ان کے جسم کے اندرونی افعال ذمہ دار ہیں تو پھر کھانے پینے کی اشیاءکی پیکنگ پر ان میں شامل اجزاءکی تفصیل بنانے سے کیا حاصل؟“