سانحہ کرائسٹ چرچ کے ملزم کی تمام الزامات سے بریت کی درخواست

رواں برس 15 مارچ کو نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ میں دو مساجد پر ہونے والے حملے کے مرکزی ملزم برینٹن ٹیرنٹ نے تمام الزامات میں خود کو مجرم قرار نہ دینے کی درخواست کر دی۔
برینٹن ٹیرنٹ پر 51 افراد کے قتل، 40 افراد کے اقدام قتل اور نیوزی لینڈ میں بڑے پیمانے پر لرزہ خیز واردات سے دہشت گردی کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
29 سالہ ملزم کو نیوزی لینڈ کی سخت ترین سمجھی جانے والی آکلینڈ پریزن میں قید تنہائی میں رکھا گیا ہے، برینٹن کو جیل سے وڈییو لنک کے ذریعے عدالتی کارروائی میں شامل کیا گیا۔
اس موقع پر ملزم خاموش بیٹھا رہا اور اس کے وکیل نے درخواست پڑھ کر سنائی، عدالتی کارروائی کے دوران دہشت گردی کا نشانہ بننے والوں کے لواحقین اور حملوں میں زندہ بچ جانے والے افراد بھی موجود تھے۔
ملزم کے وکیل کی جانب سے درخواست پڑھے جانے کے بعد عدالت میں موجود لوگوں کے چہرے سے غم جھلکنے لگا اور ان کی آنکھوں میں آنسو آگئے۔
ہائی کورٹ کے جسٹس کیمرون منڈر کے مطابق ملزم کو 16 اگست ریمانڈ پر جیل بھیج دیا گیا۔
اپریل میں ہونے والی آخری سماعت کے موقع پر عدالت کی جانب سے ملزم کی ذہنی صحت کا جائزہ لینے کا کہا گیا تھا تاکہ یہ سامنے آسکے کہ وہ مقدمے کا سامنا کرنے کے لیے ذہنی طور پر مکمل صحت مند ہے یا نہیں۔
جمعے کو ہونے والی عدالتی سماعت میں بتایا گیا کہ ملزم کو صحت کے حوالے سے کوئی مسائل درپیش نہیں اور وہ اپنے کیس کی پیروی کرنے کے قابل ہے۔
نیوزی لینڈ میں ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے کہ کسی شخص کو دہشت گردی کے الزامات کا سامنا ہو۔
یاد رہے کہ 15 مارچ کو کرائسٹ چرچ کی مسجد النور سمیت 2 مساجد پر آسٹریلیا سے تعلق رکھنے والے 28 سالہ دہشت گرد برینٹن ٹیرنٹ نے فائرنگ کر کے نمازیوں کو نشانہ بنایا اور اس کی لائیو ویڈیو بھی بناتا رہا۔
واقعے میں 9 پاکستانیوں سمیت 51 افراد شہید اور 48 زخمی ہوئے، اس واقعے کی تحقیقات کے لیے نیوزی لینڈ کی وزیراعظم جسینڈا آرڈرن نے ‘رائل کمیشن’ بنانے کا اعلان کیا۔
نیوزی لینڈ کے قانون کے مطابق رائل کمیشن سنگین ترین واقعات پر بنایا جاتا ہے اور کرائسٹ چرچ سانحے کو بھی ملکی تاریخ کے سنگین ترین واقعات میں سے ایک قرار دیا گیا تھا۔