پاک ٹیم کی پرفارمنس، وسیم اکرم بھی چپ نا رہے

پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان وسیم اکرم نے سرفراز احمد کو مشورہ دیا ہے کہ وہ بھارت کے خلاف دلیرانہ فیصلے کریں اور شیروں کی طرح ٹیم کی قیادت کرے۔

وسیم اکرم نے کہا کہ کپتان کو یہ معلوم ہونا چاہیے کہ اگر ٹیم ہاری تو سب انہی پر تنقیدکریں گے اس لیے وہ دلیری کے ساتھ اپنے فیصلے کریں۔

وسیم اکرم کا کہنا تھا کہ سرفراز کو اس خوف سے بالاتر ہو کر کھیلنا پڑے گا کہ انہیں کپتانی سے ہٹادیں گے جب کہ پلیئرز کو بھی شکست کا خوف ذہن سے نکال کر میدان میں اترنا ہوگا۔

وسیم اکرم نے بتایا کہ انہیں ایک دو کھلاڑیوں نے بتایا کہ میچ کی صبح ہی انہیں معلوم ہوا کہ وہ نہیں کھیل رہے۔ وسیم کے مطابق اس طرح کھلاڑیوں کا اعتماد خراب ہوتا ہے، ضروری ہے کہ انڈیا کیخلاف میچ سے ایک روز پہلے ہی ٹیم فائنل کرلی جائے اور پلیئرز کو بتادیا جائے تاکہ وہ ذہنی طور پر تیار رہیں۔

وسیم اکرم سے جب پوچھا گیا کہ ورلڈکپ میں پاکستان بھارت سے ہمیشہ کیوں ہارجاتا ہے تو ان کا جواب تھا کہ اس کیوں کا جواب تو کسی کے پاس بھی نہیں لیکن یہ باتیں صرف میڈیا میں ہوتی ہیں، پلیئرز کے ذہن میں ماضی نہیں ہوتا ان کے ذہن میں صرف وہ میچ ہوتا ہے جس کے لیے وہ میدان میں اترتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے پندرہ کھلاڑیوں میں کافی محدود آپشنز ہیں، دو پارٹ ٹائمر اسپنرز کے ساتھ مسئلہ ہوسکتا ہے کیونکہ انڈیا ایسی ٹیم ہے جو رنز کے لیے اسپنرز کی تلاش کرتی ہے۔

سابق کپتان نے کہا کہ انڈیا کے خلاف میچ میں بولرز کو لائن اور لینتھ کا خیال رکھنا ہوگا، ٹی ٹوئنٹی والی بولنگ اس فارمیٹ میں نہیں چل سکتی، ورلڈ کپ کے بعد ضروری ہے کہ پلیئرز کو فرسٹ کلاس میں لینتھ بولنگ کی پریکٹس کرائی جائے۔

انہوں نے مزید کہا کہ انڈیا کے پاس بولنگ میں کافی ویرایٹی ہے، اسپنرز بھی اچھے ہیں اور فاسٹ بولرز بھی ٹاپ کلاس کے ہیں جب کہ بیٹنگ میں بھی انڈیا کے پاس کافی گہرائی ہے، تاہم شیکھر دھون کے نہ ہونے سے انڈیا کو ضرور فرق پڑے گا کیوں کہ وہ پچھلے میچ کے سنچری میکر ہیں اور رائیٹ ہینڈ لیفٹ ہینڈ کامبی نیشن کا بھی فرق پڑ جائے گا۔

ایک سوال پر وسیم اکرم نے کہا کہ ان کا دل کہتا ہے کہ پاکستان میچ جیتے لیکن دماغ کہتا ہے کہ انڈیا جیت جائے گا، جب ان سے چانسز کا پوچھا تو انہوں نے کیا کہ انڈیا کا پاکستان پر 30-70 کا چانس ہے۔

یاد رہے کہ بھارت اور پاکستان کے درمیان میچ 16 جون کو مانچسٹر کے اولڈ ٹریفورڈ گراونڈ میں کھیلا جائے گا۔