چادر چار دیواری کا تقدس پامال کرنے والے ملک پر مسلط ہیں: بلاول بھٹو

پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری کا کہنا ہے کہ وزیر اعظم عمران خان دعا کریں کہ اگلی حکومت پیپلز پارٹی کی ہو کیونکہ ان کی طرح ہم سیاسی انتقام پر یقین نہیں رکھتے۔
اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ‘نیب کو سیاسی انتقام اور پولیٹیکل انجنیئرنگ کے لیے بنایا گیا ہے، تمام اداروں کو دباؤ اور دھمکیوں کے ذریعے چلانے کی کوشش کی جارہی ہے، جب سے عمران خان کی حکومت آئی ہے محسوس ہو رہا ہے کہ یہ ایک نہیں دو پاکستان ہیں۔’
انہوں نے کہا کہ ‘سیاسی گرفتاریاں عوام کے معاشی قتل سے توجہ ہٹانے کیے لیے کی جارہی ہیں، آصف زرداری اور فریال تالپور کو بجٹ پیشی کے روز گرفتار کرایا جاتا ہے تاکہ عوام کی توجہ ان کے معاشی قتل سے ہٹ جائے، تحریک انصاف کی حکومت کا بجٹ معاشی خودکشی کے مترادف ہے جبکہ اس پکڑ دھکڑ کے پیچھے یہ اپنی معاشی ناکامی چھپانا چاہتے ہیں۔’
ان کا کہنا تھا کہ ‘یہ پی ٹی آئی کا نہیں بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کا بجٹ ہے جسے اگر یہ اگر یہ دھاندلی کے ذریعے منظور کراتے ہیں تو اس کی کوئی حیثیت نہیں ہوگی۔’
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ یہ حکومت بزدلوں کی حکومت ہے، خواتین پر کیسز بنانے والے بزدل لوگ ہیں، پاکستان کے عوام سے سوال پوچھتا ہوں آج کے اور مشرف کے پاکستان میں کیا فرق ہے؟ عدلیہ خودمختار نہیں، میڈیا آزاد نہیں جبکہ معزز جج صاحبان کو سازش کے تحت ہٹایا جارہا ہے، اس کے بعد نئے پاکستان اور آمروں کے پاکستان میں کیا فرق رہ جاتا ہے؟
انہوں نے کہا کہ ‘عمران خان کہتے ہیں کہ میں نے آپ کا کیا بگاڑا ہے، آپ نے ہمارا کچھ نہیں بگاڑا لیکن عوام پوچھ رہے ہیں ہمارے سر سے چھت کیوں چھینی جارہی ہے، آج ڈالر اتنا اوپر کیسے پہنچا، عمران خان کی حکومت بھی گرا سکتے ہیں لیکن نہیں گرائی کیونکہ ہم چاہتے ہیں جمہوری حکومت اپنی مدت مکمل کرے، جبکہ عمران خان دعا کریں کہ اگلی حکومت پیپلز پارٹی کی ہو کیونکہ ان کی طرح ہم سیاسی انتقام پر یقین نہیں رکھتے۔’
قبل ازیں صحافیوں سے گفتگو میں بلاول بھٹو زرداری نے وزیر اعظم عمران خان پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ ’اپوزیشن پر قومی اسمبلی میں بات کرنے پر سینسر شپ ہے، یہ بزدل خان کا نیا پاکستان ہے‘۔
انہوں نے کہا کہ عمران خان کی حکومت کنٹینر سے نہیں اتر رہی، آج قومی اسمبلی کے اجلاس میں پوری قوم نے دیکھا کہ حکومت احتجاج کر رہی ہے۔
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ میڈیا سمیت اپوزیشن پر سینسر شپ ہے، یہاں تک کہ قومی اسمبلی میں بات کرنے پر بھی سینسر شپ ہے یہ ہے بزدل خان کا نیا پاکستان۔
انہوں نے مزید کہا کہ قومی اسمبلی تمام اداروں کی ماں ہے، ہمیں یہاں بھی بولنے نہیں دیا جارہا ہے۔
خیال رہے کہ وفاقی بجٹ پیش کرنے کے بعد قومی اسمبلی کا پہلا اجلاس آج منعقد ہوا، تاہم اجلاس کے آغاز میں پاکستان پیپلز پارٹی کی جانب سے اپنے گرفتار شریک چیئرمین آصف زرداری کے پروڈکشن آرڈر جاری کرنے کا مطالبہ دہرایا گیا۔
تاہم یہ معاملہ تنازع کی صورت اختیار کرگیا اور ابتدا میں اپوزیشن اراکین نے احتجاج کیا، جس کے بعد پی پی رہنما اور سابق وزیر اعظم راجا پرویز اشرف نے اظہار خیال کیا جبکہ انہیں پوائنٹ آف آرڈر پر ڈائس ملنے پر حکومتی اراکین نے احتجاج کیا۔
اس دوران اسپیکر قومی اسمبلی نے اسمبلی اجلاس کو مختصر وقت کے لیے ملتوی کیا، جس کے بعد دوبارہ اجلاس شروع ہوا تو قومی اسمبلی میں قائد حزب اختلاف اور مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف خطاب کرنا شروع ہوئے تو پھر حکومتی اراکین کی جانب سے شور شرابا شروع ہوگیا۔
شور شرابے کے بعد اسپیکر اسد قیصر نے ایک مرتبہ پھر قومی اسمبلی کا اجلاس ایک مرتبہ پھر ملتوی کردیا تھا۔