ٹیکسٹائل انڈسٹری مالکان اب ہو جایئں ہوشیار

مشیر خزانہ حفیظ شیخ نے کہا کہ ایف بی آر معقول ٹیکس نہ ادا کرنے والے مقامی ٹیکسٹائل سازوں کیلئے حکمت عملی تیار کررہی ہے ۔
اسلام آباد میں پوسٹ بجٹ پریس کانفرنس کرتے ہوئے مشیر خزانہ حفیظ شیخ نے کہا کہ ہمارے اندازے کے مطابق مقامی ٹیکسٹائل کی فروخت 1200ارب مالیت ہے لیکن اس شعبے سے ٹیکس صرف 6 ارب سے 8 ارب روپے موصول ہوتا ہے جو ناقابل قبول ہے۔
حکومت کا کہنا ہے کہ یہ صنعتیں وفاقی ٹیکس کلیکشن میں بڑا کردار ادا کرسکتی ہیں ۔ حکومت نے رواں مالی سال کا ٹیکس ہدف 5555ارب مختص کیا ہے ۔
مشیر خزانہ کا کہنا تھا کہ وہ ٹیکسٹائل مالکان جو برآمد کنندگان ہیں انہیں ٹیکس کی چھوٹ ہوگی جبکہ مقامی سطح پر فروخت کرتے والوں کو ٹیکس دینا ہوگا چاہئے وہ برآمد کنداگان ہی نہ ہوں ۔
مشیر خزانہ کے مطابق درآمد شدہ اشیا پر بھی امپورٹ ڈیوٹی بڑھائی جائے گی مگر خام مال میں شامل 1565 اشیا اس سے مستثی ہیں۔
اس سے قبل انہوں نے کہا تھا کہ پاکستان ٹیکس ٹو جی ڈی پی کی شرح دنیا بھر سے کم ہے کیوں کہ پاکستان کا امیر طبقہ ٹیکس ادا نہیں کرتا، اب مزید یہ رویہ ناقابل قبول ہوگا اور ٹیکس وصولی کیلئے کسی کو ناراض کرنا پڑا تو کرلیں گے۔
پاکستان کی مجموعی پیداوار ( جی ڈی پی) میں ٹیکس کی شرح محض 11 فیصد ہے۔ 22 کروڑ کی آبادی میں محض 20 لاکھ افراد فائلرز ہیں جن میں 6 لاکھ تنخواہ دار ہیں، ٹیکس نہ دینے کی وجہ سے حکومت کے اخراجات اور آمدن میں بڑا شارٹ فال ہے جس کے باعث حکومت عوام کی ترقی اور انفرا اسٹرکچر پر خرچ نہیں پارہی۔
رواں مالی سال میں حکومت 2900 ارب روپے محض قرضوں پر سود کی مد میں ادا کرے گی۔ یہ رقم ایف بی آر کے ٹیکس ہدف کا 52 فیصد بنتا ہے۔ رواں سال ٹیکس محصولات کا ہدف 5555 ارب روپے ہے۔ اس کا مطلب یہ کہ حکومت اپنی آدھی زائد آمدنی قرضوں کی واپسی پر خرچ کر رہی ہے۔
اس وقت حکومت کو 3137 ارب روپے کے خسارے کا سامنا ہے کیوں کہ اس کے اخراجات ریونیو سے زیادہ ہیں۔ حکومتی آمدنی بڑھانے کیلئے حکومت نے ’مینوفیکچرنگ‘ لیول پر سیلز ٹیکس وصول کرنے کا نظام متعارف کرانے کا فیصلہ کیا ہے تاکہ ٹیکس چوری روکی جاسکے۔