وزیراعظم عمران خان کے خطاب کے دوران آواز غائب ہونے کی وجہ سامنے آگئی

بجٹ کے بعد وزیراعظم عمران خان نے قوم سے خطاب کیا لیکن ان کے ریکارڈڈ پروگرام کے کچھ حصے کی آواز غائب تھی جس پر سنسر شپ سمیت مختلف تبصرے شروع ہوگئے اور طرح طرح کی افواہیں شروع ہوگئیں، کئی لوگوں نے پی ٹی وی کی انتظامیہ کو قصور وار قرار دیا تو کئی شہریوں نے پرانے بوسیدہ نظام پر…
برطانوی جریدے ’انڈیپنڈنٹ‘ کے مطابق پی ٹی وی اسلام آباد کے ایک اہلکار نے بتایا کہ پہلے تو یہ بات کہنا ضروری ہے کہ پی ٹی وی سات منٹ سے زیادہ دورانیے کی ویڈیو سسٹم میں ڈال کر چلانے کی حامل نہیں کیونکہ ویڈیوز کا دورانیہ جب زیادہ ہوجاتا ہے تو سسٹم پر بوجھ پڑتا ہے، وزیر اعظم کا خطاب پی ٹی وی نے ریکارڈ نہیں کیا، بلکہ ایک نجی کمپنی کی خدمات حاصل کی گئی تھیں ۔انہوں نے بتایا کہ پی ٹی وی کے پاس جدید آلات نہ ہونے کی وجہ سے حکومت نے ریکارڈنگ پرائیوٹ کمپنی سے کروانے کا فیصلہ کیا۔
اس کمپنی نے ریکارڈنگ مکمل کی اور ایڈٹ کیے بغیر پوری ویڈیوز کو لے کر پی ٹی وی دفتر پہنچ گئے کیونکہ حکومت نے نو بجے خطاب چلانے کا بتایا تھا۔ جب پی ٹی وی کے دفتر میں ریکارڈنگ کو چیک کیا گیا تو انتظامیہ نے نجی کمپنی کو کہا کہ اس میں کچھ مسائل ہیں اور مشورہ دیا کہ وہ ویڈیوز کو ایک مرتبہ ایڈیٹ کریں اور پھر اس کے بعد چلائیں گے، پھر ویڈیوز کو وہیں پر ایڈیٹ کیا گیا جس کی وجہ سے خطاب تاخیر کا شکار ہوا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ 37 منٹ کی تقریر میموری کارڈ میں موجود تھی، جب اسے چلانا شروع کیا تو سسٹم کچھ منٹوں کے بعد کریش ہوگیا۔اس اہلکار نے مزید بتایا کہ جب بھی کبھی ویڈیوز کا دورانیہ سات منٹ سے زیادہ ہوتا ہے تو ادارے میں ویڈیوز کو ٹیپ یا کیسٹ اور میموری کارڈ دونوں میں ڈال کر اس کو سسٹم پر اپلوڈ کیا جاتا ہے تو اس سے سسٹم پر بوجھ کم ہوجاتا ہے اور پھر چلانے میں مسئلہ نہیں ہوتا لیکن عمران خان کے میموری کارڈ میں موجود خطاب نے سسٹم کو فریز کردیا۔
یاد رہے کہ وزیراعظم عمران خان کے خطاب سے قبل کچھ وزراء کے انٹرویوز پی ٹی وی ریکارڈ کرتا رہا ہے ۔