پاکستان کی ریٹنگ کوعالمی ایجنسی فچ نے رکھا مستحکم

عالمی کریڈٹ ریٹنگ ایجنسی فچ نے آئی ایم ایف سے 6ارب ڈالر کے قرضے کے معاہدے کے باوجود پاکستان کی ریٹنگ میں کوئی بہتری نہیں کی تاہم اسے مستحکم رکھا۔
آئی ایم ایف سے 6ارب ڈالر کے قرضے کی منظوری 3جولائی کو متوقع ہے۔ فچ کے مطابق آئندہ مالی سال کے اواخرتک پاکستان کی قومی پیداوار اور قرضوں کا تناسب 77فیصدیا34ٹریلین روپے تک پہنچ جائے گا۔
عالمی ادارے نے پیش گوئی کی ہے کہ ایف بی آرکیلیے 5.55ٹریلین روپے کے محصولات کی وصولی کا ہدف پورا کرنا چیلنج ثابت ہوگا۔ جمعے کو فچ نے پاکستان کی کریڈٹ ریٹنگ بی نگیٹو پر برقراررکھی ہے۔
ایکسپریس ٹریبیون کو وزارت خزانہ کے ذرائع نے بتایاکہ 3جولائی کو آئی ایم ایف کے ایگزیکٹو بورڈ کے اجلاس میں پاکستان کا کیس زیرغورآنے کی توقع ہے۔ ریٹنگ ایجنسی نے پاکستان کی آئی ڈی آر ریٹنگ جو کہ پہلے بی تھی اسے بی مائنس کردیا ہے۔
فچ نے اپنے فیصلے کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا ہے کہ پاکستان کو بیرونی قرضوں کی بھاری ادائیگیاں کرنی ہیں، ادائیگیوں کی فنانسنگ کی صورتحال سے خدشات بڑھے ہیں جس نے بیرونی کرنسی میں تمسکات کے اجرا پر دیوالیہ خدشات بڑھائے ہیں اور اس سے ریٹنگ کم ہوئی ہے۔
فچ کے مطابق پاکستان کے مالیاتی مسائل، پبلک اداروں کے نقصانات، اندرونی حالات اور جیوپولیٹیکل صورتحال خدشات بڑھا رہی ہے۔ فچ نے اندازے لگائے ہیں کہ اگلی دہائی میں سی پیک منصوبوں کی ادائیگیوں کے سبب قرضوں کی ضرورت رہے گی اور آئی ایم ایف پروگرام کو معاشی بہتری کا نسخہ قرار دیا ہے البتہ پروگرام پر عملدرآمد ہونے کے خدشے کا اظہار کیا ہے۔
فچ کے مطابق روپے کی قدر کم ہونے، خام تیل کی قیمتوں میں کمی اور درآمدت پر ڈیوٹیز حالات کو قابو میں لائیں گے جبکہ برآمدات مرحلہ وار بڑھیں گی۔