ورلڈکپ: عاقب جاوید نے قومی ٹیم سے متعلق کیا بات کی ؟ جانیے آپ بھی

سابق ٹیسٹ کرکٹر عاقب جاوید نے ورلڈکپ میں پاک بھارت میچ کے لیے قومی ٹیم کو چیمپئنز ٹرافی کی خوشگوار یادوں کے ساتھ میدان میں اترنے کا مشورہ دیا ہے۔

ورلڈکپ شروع ہوتے ہی اگر کسی میچ کاشدت سے انتظار ہوتا ہے تو وہ پاک بھارت میچ کا ہوتا ہے اور اس بار بھی ہر طرف پاک بھارت کے میچ کا چرچہ ہے جو 16 جون کو مانچسٹر کے اولڈ ٹریفوڈ گراؤنڈ میں کھیلا جائے کا۔

سابق ٹیسٹ کرکٹر عاقب جاوید کی بھارت کے خلاف کارکردگی شاندار رہی ہے لیکن ان کی بھارت سے ہار کے بعد یادیں بھی تلخ ہیں، ان ہی تلخ یادوں اور ورلڈکپ میچ کے حوالے سے عاقب جاوید نے نمائندہ جیونیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ نفسیاتی بلاکیج کو توڑنے کی کوشش کرنا ہوگی، یہ کیسے ٹوٹے گا اس کا جواب مشکل ہی ملتا ہے اور جب یہ بلاکیج ٹوٹ گیا تو پاکستان جیتنا شروع کر دے گا۔

عاقب جاوید نے کہا کہ شارجہ میں ہم جیتا کرتے تھے لیکن ورلڈکپ میں ہم ہار جاتے ہیں، اب جونہی ورلڈ کپ میچ آتا ہے ہم کہتے ہیں کہ یہاں تو ہارنا ہی ہے، اب ہمیں اس چیز کو ختم کرنا ہو گا جس کےلیے اس مرتبہ کچھ الگ کریں۔

عاقب جاوید نے اپنا ذاتی تجربہ بتاتے ہوئے کہا کہ بھارت سے ہارنے سے زیرو تو ہوتے ہی ہیں اور مشکلات بھی بڑی ہوتی ہیں، مجھے یاد ہے کہ بھارت سے 1996 کے ورلڈکپ میں شکست ہوئی تو جب بھارت سے واپس آئے تو بڑے تلخ تجربات ہوئے، میں دو ماہ گھر سے باہر نہیں نکلا، ٹماٹر اور گندے انڈے پڑے، اس لیے بھارت سے جیت بہت ضروری ہے۔

سابق کرکٹر کا کھلاڑیوں کو نصیحت کرتے ہوئے کہنا تھا کہ اس خوف کے سا تھ میدان میں مت اتریں کہ یہاں تو ہارنا ہی ہے، چیمپئنز ٹرافی میں پاکستانی ٹیم نے فائنل میں بھارت کو ہرایا اور کھلاڑی ان ہی خوشگوار یادوں کے ساتھ میدان میں اتریں، یہ بھی ذہن میں رکھیں کہ شیکھر دھون کے نہ ہونے سے بھارت کو بہت فرق پڑے گا وہ دباؤ میں ہوں گے اس لیے فائدہ اٹھانے کی کوشش کریں۔

انہوں نے کہا کہ بھارت کی پہلے پانچ چھ اوورز میں دو وکٹیں لینی ہیں، شروع میں آؤٹ کریں گے تو بھارت سے جیت سکیں گے، انگلینڈ میں ہی پاکستان نے دو سال پہلے کامیابی حاصل کی، یہ کوئی چھوٹی بات نہیں ہے، مثبت سوچیں اور مثبت نتیجہ نکالیں۔

سابق ٹیسٹ کرکٹر عاقب جاوید نے قومی ٹیم کے کھلاڑیوں کو مشورہ دیا کوشش کریں کہ سوشل میڈیا سے دور رہیں، بلاوجہ سوشل میڈیا پر تبصرے پڑھنے سے دماغ الٹا سوچتا ہے، گھر والوں، دوستوں اور عزیز و اقاراب سے کم بات کریں کیونکہ سب میچ پر بات کرتے ہیں تو دباؤ بڑھتا ہے۔