ایشیائی ترقیاتی بینک کا 3 ارب 40 کروڑ ڈالر فراہم کیے جانے کے حکومتی دعوے سے اظہارِ لاتعلقی

ایشیائی ترقیاتی بینک (اے ڈی بی) نے پاکستانی حکومت کی جانب سے بجٹ سپورٹ کی مد میں 3 ارب 40 کروڑ ڈالر فراہم کیے جانے کے اعلان سے لاتعلقی اختیار کرلی۔
تفصیلات کے مطابق ہفتے کے روز 2 اعلیٰ حکومتی عہدیداروں نے اعلان کیا تھا کہ ایشیائی ترقیاتی بینک معاشی اصلاحات نافذ کرنے اور اقتصادی استحکام کی غرض سے بجٹ امداد میں 3 ارب 40 کروڑ ڈالر کی رقم فراہم کرے گا۔
وزیر برائے ترقی ومنصوبہ بندی مخدوم خسرو بختیار نے  یہ اعلان ایک نیوز کانفرنس میں کیا تھا جس کی تصدیق بعد میں وزیراعظم کے مشیرِ خزانہ ڈاکٹر عبدالحفیظ شیخ نے اے ڈی بی کے 2 سینئر عہدیداروں سے ملاقات کے بعد اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ پر ٹوئٹ کرتے ہوئے بھی کی۔
ایشیائی ترقیاتی بینک کے ڈائریکٹر جنرل وارنر لی پیچ سے ملاقات کے بعد ڈاکٹر حفیظ شیخ نے بتایا کہ پاکستان میں اصلاحات اور معاشی استحکام کے لیے اے ڈی بی بجٹ سپورٹ کی مد میں پاکستان کو 3 ارب 40 کروڑ ڈالر فراہم کرے گا۔
مشیر خزانہ کا مزید کہنا تھا کہ مالی سال 20-2019 کی پہلے سہہ ماہی کے لیے ایشیائی ترقیاتی بینک 2 ارب 20 کروڑ ڈالر جاری کرے گا جس سے بیرونی اکاؤنٹ اور غیر ملکی زر مبادلہ کے ذخائز کی صورتحال بہتر کرنے میں مدد ملے گی۔
دوسری جانب پاکستان میں موجود ایشیائی ترقیاتی بینک کے دفتر نے عام تعطیل کے روز غیر متوقع اقدام اٹھاتے ہوئے ایک بیان جاری کیا جس میں حکومت کی جانب سے مذکورہ بالا اعلان سے لاتعلقی اختیار کی گئی۔
اپنے جاری کردہ بیان میں ایشیائی ترقیاتی بینک نے حکومتی اراکین سے ہونے والی ملاقات اور اس میں قرضوں کے لیے بات ہونے کی تصدیق کی۔
تاہم بیان میں ایشیائی ترقیاتی بینک کے کنٹری ڈائریکٹر برائے پاکستان شیاؤہونگ یانگ کا کہنا تھا کہ ’یہ بات چیت جاری ہے اور جب اے ڈی بی کی مالی مدد کی تفصیلات اور حجم کا فیصلہ کرلیا جائے گا تو اسے اے ڈی بی انتظامیہ اور اس کے بورڈ آف ڈائریکٹر کے سامنے منظوری کے لیے پیش کردیا جائے گا‘۔