کس نےکھولا، منی لانڈرنگ کاکچھا چٹھا

شریف فیملی کے فرنٹ مین مشتاق چینی نے عدالت میں تہلکہ خیز انکشافات کئے ہیں۔ مشتاق چینی کے بیان کی کاپی منظر عام پر آ گئی ہے۔
 تفصیلات کے مطابق منی لانڈرنگ کیس میں وعدہ معاف گواہ بننے والے مشتاق چینی کو جوڈیشل مجسٹریٹ کے روبرو پیش کیا گیا اورت جوڈیشل مجسٹریٹ عامر رضا بیٹو کے روبرو دفعہ 164 کا بیان ریکارڈ کرایا۔
مشتاق چینی نے کہا کہ وہ شہباز شریف فیملی کے ساتھ 2005 سے کاروبار کر رہا ہے۔  شہباز شریف کے کمپنی سیکرٹری عثمان نے 2014 میں کہا تھا کہ ساٹھ کروڑ کی رقم وائٹ کروانی ہے، صرف آپ کے اکاؤنٹ استعمال کرنے ہیں، سرمایہ ہمارا ہے۔
شریف فیملی کے فرنٹ مین کا کہنا تھا وزیر اعلی کے بیٹے اور وزیراعظم کے بھتیجے ہونے کی وجہ سے انکار نہیں کر سکا تھا۔  2014 میں ان کی کمپنی کے بادامی باغ میں واقع بینک میں بیرون ملک سے اکیس کروڑ چالیس لاکھ کی ٹی ٹی لگوائی گئی۔ رقم بھیجنے والی کمپنیوں اور افراد کو وہ نہیں جانتے۔
بیان مہں کہا گیا کہ کمپنی کے سیکرٹری اور سی ایف او عثمان نے کہا تھا کہ اسی بینک میں اکاؤنٹ کھلوائیں، جس میں سلمان شہباز کا اکاؤنٹ ہے۔ سرکلر روڈ پر واقع بینک کے ہمارے اکاؤنٹ میں 29 کروڑ 30 لاکھ کی رقم بیرون ممالک سے ٹرانسفر کی گئی۔ جو رقم ہمیں موصول ہوتی اس کا چیک کاٹ کر محمد عثمان کو دیتے جو سرکلر روڈ پر واقع بینک میں سلمان شہباز کے اکاؤنٹ میں جمع کرا دیتے۔
مشتاق چینی نے بتایا کہ پچاس کروڑ کی جعلی ٹی ٹی بھی ہمارے اکاؤنٹ میں جمع ہوئی جو سلمان شہباز کی تھی، ان کا اس رقم سے کوئی تعلق نہیں، سلمان شہباز کی وقار ٹریڈنگ کمپنی جو کہ طاہر نقوی کے نام سے بنائی گئی تھی، اس کمپنی سے میرے اکاؤنٹ میں 10 کروڑ کی رقم بذریعہ چیک آئی۔
ان کا کہنا تھا سلمان شہباز نے ان ساری ٹرانزیکشن کو قانونی ثابت کرنے کے لیے دو فرضی معاہدے تحریر کیے، ایک معاہدے میں میرا اور دوسرے میں میرے بیٹے یاسر مشتاق کا نام لکھا گیا۔  معاہدے میں یہ رقم بطور قرض ظاہر کی گئی۔
مشتاق چینی نے کہا کہ ان معاہدوں کی نقول نیب کو فراہم کر دی ہیں۔  فرضی قرضوں کو حقیقی رنگ دینے کے لیے سلمان شہباز نے اپنی جعلی کمپنی سے رقم میرے اکاؤنٹ میں بھی منتقل کروائی۔
مشتاق چینی نے اعتراف کیا کہ وہ کاروبار اور پیسہ وائٹ ہونے کے لالچ میں یہ کام کرتا رہا۔ اسے اپنے گناہ کا احساس ہے۔ معافی دی جائے۔
اس موقع پر عدالت نے وکیل سے استفسار کیا کہ ملزم کورہاکرنامیرے اختیارمیں ہے؟ جسٹس جوادالحسن نے کہا کہ ابھی تک تومیں نے بیان بھی نہیں پڑھا۔ عدالت نے مشتاق چینی کویکم جولائی تک جوڈیشل ریمانڈپرجیل بھیج دیا۔ عدالت نے کہاکہ مشتاق چینی کاطبی معائنہ کرایاجائے۔ ضرورت پڑنے پرمشتاق چینی کو ہسپتال منتقل کیاجائے۔