بچے بیمار، ویکسین کمروں میں بندد، سندھ محکمہ صحت کا جانیے حال

بچے بیمار ہوتے رہے اور ویکسین بند کمروں میں خراب ہوتی رہی، اسکول کے بچوں کو ہیپاٹائٹس سے بچاؤ کے لیے خریدی گئیں 24 ہزار ویکسینز تاحال استعمال نہ ہوسکیں۔
تفصیلات کے مطابق لاڑکانہ میں اسکول کے بچوں کو ہیپاٹائٹس سے بچانے کے لیے دو سال قبل بڑی مقدار میں حکومت نے ویکسین خریدی تھی جن کی معیاد جون 2019 کے اختتام کے ساتھ ختم ہوجائے گی۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ ایک کروڑ روپے مالیت کی یہ ویکسین 15 روز میں ایکسپائر ہوجائے گی لیکن لاڑکانہ کے بچوں کو تاحال یہ ویکسین لگانے کے لیے کسی قسم کے اقدامات نہیں کیے جاسکے ہیں۔
لاڑکانہ محکمہ صحت کے افسران نے بھانڈا پھوٹنے پر یہ ویکسین فریزر اسٹور سے نکال کر ایک عام کمرے میں چھپا دیں، جہاں یہ اپنی معیاد ختم ہونے سے پہلے ہی کنٹرولڈ درجہ حرارت نہ ہونے کے سبب خراب ہوجائیں گئی ۔
دوسری جانب رابطہ کرنے پر لاڑکانہ محکمہ صحت کا کوئی بھی افسر ذمہ داری لینے کو تیار نہیں ہے ، تمام افسران ایک دوسرے پر الزام بازی کرتے رہے۔ ضلع ہیلتھ افسر عبدالرحمن بلوچ کا کہنا ہے کہ لاڑکانہ میں غفلت کے مرتکب افسران کو شو کاز نوٹس جاری کیے ہیں اور معاملے کی انکوائری جاری ہے۔
یاد رہے کہ گزشتہ دنوں عالمی ادارہ صحت کی نشاندہی پر لاڑکانہ ڈسٹرکٹ کے شہر رتو ڈیرو میں بچوں میں ایچ آئی وی کا سب سے بڑا آؤٹ بریک سامنے آیا تھا، جبکہ ابھی لاڑکانہ کے مزید تین تعلقے باقی ہیں جہاں اسکریننگ کا عمل شروع نہیں کیا گیا۔
لاڑکانہ میں مجموعی طور پر 26 ہزار 8 سو 72 افراد کی اسکریننگ کا عمل مکمل ہوچکا ہے جس کے بعد ایچ آئی وی ایڈز کے مریضوں کی تعداد 785 ہوگئی۔ ایچ آئی وی ایڈز متاثرین میں صرف بچوں کی تعداد 646 ہے۔
قومی ادارہ صحت برائے اطفال (این آئی سی ایچ) کے سربراہ و ماہرین صحت نے بتایا کہ رتو ڈیرو کی آبادی 3 لاکھ 31 ہزار ہے، ابھی تک 7 فیصد آبادی کے ایچ آئی وی ٹیسٹ کیے گئے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ 37 سالہ تاریخ میں افریقہ، انڈیا ،تھائی لینڈ سمیت دیگر ممالک میں بچوں میں ایچ آئی وی کا اتنا بڑا آﺅٹ بریک نہیں ہوا جو رتو ڈیرو میں سامنے آرہا ہے۔