تاریخ نے کھایا پلٹا، پہلی بار سعودیہ اور اسرائیل ہوئے ایک

تاریخ میں پہلی بار سعودی عرب اور اسرائیل مل کر ایک بڑے منصوبے پر کام کرنے جا رہے ہیں ۔ منصوبہ بحیرہ احمر کے ساحلوں میں پائے جانے والی آبی حیات اور رنگین پودوں اور مرجان وغیرہ جیسے قیمتی پتھروں کی حفاظت ہے۔
اس مقصد کے لیے اسرائیل اور سعودی عرب کے علاوہ وہ تمام ملک بھی متحد ہو گئے ہیں جو بحیرہ احمر کے ساحل پر واقع ہیں۔ ان ممالک میں اردن، مصر، سوڈان، اریٹیریا، جبوتی اور یمن شامل ہیں۔
ان میں سے صرف اریٹیریا، اردن اور مصر کے ساتھ اسرائیل کے سفارتی تعلقات ہیں۔ باقی کسی ملک کے ساتھ بھی اسرائیل کے سفارتی تعلقات نہیں ہیں۔ان ممالک کو سوئٹزرلینڈ کے ”سوئس فیڈرل انسٹیٹیوٹ آف ٹیکنالوجی‘ نے متحد کیا ہے۔ اسرائیلی پروفیسر ماﺅز فین کا کہنا ہے کہ یہی ادارہ غیرجانبدار سربراہی کر رہا ہے۔ یہ ادارہ بحیرہ احمر میں ہونے والی تحقیق اور تمام ممالک کے اتحاد کی نگرانی کرے گا۔ بین الاقوامی درجہ حرارت بڑھنے سے بحیرہ احمر کے ساحلوں پر موجود رنگین آبی حیات کو شدید نقصان پہنچ رہا ہے اور گزشتہ 30سال میں ہم 50فیصد سے زائد آبی حیات اور اس کے رنگ برنگے ماحول سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ اب بحیرہ احمرکے ساحلوں پر بسنے والے تمام ممالک مل کر اس خطرے سے نمٹیں گے۔