پیراگون ہاؤسنگ اسکینڈل میں گرفتار خواجہ برادران کی درخواست ضمانت مسترد

لاہور ہائی کورٹ نے پیراگون ہاؤسنگ اسکینڈل میں گرفتار خواجہ برادران کی درخواست ضمانت مسترد کردی ہے۔
تفصیلات کے مطابق لاہور ہائی کورٹ میں جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں 2 رکنی بینچ پیراگون ہاؤسنگ اسکینڈل میں گرفتار خواجہ برادران کی درخواست ضمانت پر سماعت کررہا تھا۔
عدالت میں سماعت کے دوران نیب وکیل نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پیراگون سوسائٹی خواجہ برادران کی ملکیت ہے، کاروباری شراکت دار قیصر امین وعدہ معاف گواہ بن چکے ہیں۔
نیب کے وکیل نے کہا کہ اثاثوں پرخواجہ برادران کی انکوائری پرائزبانڈ نکلنے کی بنا پرختم کردی گئی، لاہور ہائی کورٹ نے استفسار کیا کہ پرائز بانڈ کا انکوائری سے کیا تعلق ہے، بانڈ کتنے کے نکلے۔
وکیل نیب نے کہا کہ آمدن سے زائد اثاثہ جات کی انکوائری 48 ملین کے بانڈ نکلنے پر ختم کی گئی، خواجہ برادران کی خوش قسمتی تھی کہ ان کے بانڈ نکلے۔
انہوں نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ پیراگون غیر قانونی اسکیم ہے، ٹی ایم اے نے اسکیم کوعبوری منظور کیا، ایل ڈی اے نے پیراگون کی منظوری کی درخواست مسترد کی تھی۔
نیب کے وکیل نے کہا کہ نقشوں پر پلاٹ فروخت کرکے لوگوں سے پیسے ہتھیاتے رہے، عدالت نے استفسار کیا کہ کیا مطمئن کرنے کے لیے پیراگون انتظامیہ نے خوش نما اشتہارات دیے؟۔
وکیل نیب نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ایک ہزار کینال کی اسکیم غیرقانونی طور پر 7ہزار کینال تک پھیلا دی، لاہور ہائی کورٹ نے استفسار کیا کہ اسکیم غیر قانونی تھی تو ایل ڈی اے نے کیا کارروائی کی؟۔
نیب کے وکیل نے کہا کہ ایک بھائی ریلوے کا وزیراور دوسرا بھائی صحت کا وزیرتھا، بااثر افراد کے خلاف ایل ڈی اے کیسے کارروائی کرتا؟۔
وکیل صفائی نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ بجٹ اجلاس کے باعث عبوری ضمانت منظورکی جائے، اجلاس میں تجاویزکے لیے ماہرین سے مشاورت ضروری ہے، درخواست ضمانت پرحتمی فیصلے تک عبوری ضمانت منظورکی جائے۔
وکیل خواجہ برادران نے کہا کہ پیراگون سے کوئی تعلق نہیں، ندیم ضیا اور قیصرامین بٹ دوست ہیں، پارٹنرنہیں، قیصر امین بٹ کا 2 بارجوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے بیان دلوایا گیا۔
وکیل صفائی نے کہا کہ قیصرامین بٹ کومعافی دے کرواپس لی گئی اوردوبارہ بیان لیا گیا، عدالت نے استفسار کیا کہ دوسری بارقیصرامین بٹ کا بیان لینے کی وجہ کیا تھی؟۔
وکیل خواجہ برادران نے کہا کہ پہلا بیان چیئرمین نیب کی مرضی کا نہیں تھا، 3سال خواجہ برادران کے خلاف آمدن سے اثاثے کی انکوائری چلی، انکوائری کسی پرائزبانڈ کی وجہ سے بند نہیں ہوئی، انکوائری نیب نے بند کرتے ہوئے معذرت بھی کی تھی۔
لاہور ہائی کورٹ نے خواجہ برادران اور نیب کے وکلا کے دلائل سننے کے بعد درخواست ضمانت پر فیصلہ محفوظ کرلیا۔
خواجہ برادران کی جانب سے درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ نیب کی تفتیش میں ہرممکن تعاون کررہے ہیں، پیراگون ہاؤسنگ اسکینڈل میں گرفتار کیا گیا لیکن نیب کرپشن کے الزامات ثابت کرنے میں ناکام رہا۔
خواجہ برادران کا موقف ہے کہ نیب تفتیش میں تعاون اور تمام ریکارڈ فراہم کیا، عدالت سے استدعا ہے کہ درخواست ضمانت منظور کرکے رہائی کا حکم دیا جائے۔
واضح رہے 11 دسمبر کو لاہور ہائی کورٹ نے مسلم لیگ ن کے رہنماؤں خواجہ سعد رفیق اور ان کے بھائی سلمان رفیق کی عبوری ضمانت خارج کردی تھی، جس کے بعد قومی احتساب بیورو (نیب) نے دونوں بھائیوں کو حراست میں لے لیا تھا۔
خواجہ برادران کو پیراگون ہاؤسنگ اسکینڈل میں گرفتار کیا گیا ہے جبکہ دونوں بھائی پیراگون ہاؤسنگ اسکینڈل سمیت 3 مقدمات میں نیب کو مطلوب تھے۔
اس سے قبل آشیانہ ہاؤسنگ سوسائٹی کی تحقیقات میں انکشاف ہوا تھا کہ خواجہ سعد رفیق کے پیراگون سوسائٹی سے براہ راست روابط ہیں، پنجاب لینڈ ڈویلپمنٹ کمپنی کے ذریعے آشیانہ اسکیم لانچ کی گئی تھی۔
نیب کے مطابق وفاقی وزیر ہوتے ہوئے خواجہ سعد رفیق نے اپنے اختیارات کا غلط استعمال کیا تھا اور شواہد کو ٹمپر کرنے کی کوشش بھی کی، دونوں بھائیوں نے اپنے ساتھیوں سے مل کر عوام کو دھوکہ دیا اور رقم بٹوری۔
نیب کا کہنا ہے کہ خواجہ برادران پیراگون ہاؤسنگ سوسائٹی سے فوائد حاصل کرتے رہے، خواجہ برادران کے نام پیراگون میں 40 کنال اراضی موجود ہے۔