کرائسٹ چرچ مساجد پر حملے کی ویڈیو شیئر کرنے والے کو جیل بھیج دیا گیا

رواں برس مارچ میں نیوزی لینڈ کے شہر کرائسٹ چرچ کی 2 مساجد پر حملے کی ویڈیو کو فیس بک پر شیئر کرنے والے ایک شخص کو عدالت نے جیل بھیج دیا۔
کرائسٹ چرچ کی النور اور لین ووڈ مسجد پر آسٹریلوی نژاد 28 سالہ برینٹن ٹیرنٹ نے حملہ کرکے کم سے کم 51 نمازیوں کو شہید جب کہ 80 سے زائد کو زخمی کردیا تھا۔
واقعے کے چند دن بعد نیوزی لینڈ پولیس نے حملہ آور کو گرفتار کرکے عدالت میں پیش بھی کیا تھا اور عدالت میں ان پر الزامات بھی لگائے گئے تھے۔
تاہم حملہ آور نے رواں ماہ 14 جون کو ہونے والی سماعت کے دوران خود پر لگے تمام الزامات سے انکار کردیا تھا۔
حملہ آور نے مساجد پر حملے کے دوران واقعے کی ویڈیو فیس بک پر براہ راست چلائی تھی۔
ملزم کی جانب سے براہ راست چلائی گئی ویڈیو کو اگرچہ نیوزی لینڈ حکومت کی درخواست پر فیس بک نے فوری طور پر ڈیلیٹ کردیا تھا، تاہم اس ویڈیو کو چند افراد نے ڈاؤن لوڈ کرکے اسے شیئر کیا تھا۔
دہشت گرد حملے کی اسی ویڈیو کو شیئر کرنے والے افراد میں کرائسٹ چرچ کے 44 سالہ کاروباری شخص فلپ آرپس بھی شامل تھے۔
فلپ آرپس کو نفرت انگیز اور دہشت گردانہ مواد پر مبنی ویڈیو کو شیئر کرنے کے الزام میں حملے کے چند ماہ بعد ہی گرفتار کیا گیا تھا اور عدالت میں ان پر قابل اعتراض مواد کی تشہیر کی فرد جرم بھی عائد کی گئی تھی۔
فلپ آرپس کو 18 جون کو عدالت نے پابندی کے باوجود نفرت انگیزاور قابل اعتراض مواد کو سوشل میڈیا پر شیئر کرنے کے جرم میں جیل بھیج دیا۔
خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ (اے پی) کے مطابق عدالت نے فلپ آرپس کو 21 ماہ کے لیے جیل بھیج دیا۔
مجرم کو جیل کی سزا سناتے وقت جج نے بتایا کہ فلپ آرپس نے نفرت انگیز اور مسلمانوں کے قتل عام کی ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے اسے انتہائی خوشگوار قرار دیا۔
جج کا کہنا تھا کہ مجرم نے نفرت انگیز ویڈیو کو کم سے کم 30 افراد کے ساتھ شیئر کیا اور اسی ویڈیو کو مزید شیئر کرنے کی خواہش بھی کی۔
عدالت کے مطابق مجرم نے مسلمانوں کے قتل عام پر مبینہ طور پر خوشی کا اظہار کیا اور شہید والے افراد کے میمز بھی بنائیں، تاہم عدالت کو مجرم کی جانب سے بنائی گئی میمز نہیں ملیں۔
عدالت نے بتایا کہ فلپ آرپس سیاسی طور پر نازی جرمن خیالات کے ہیں۔
خیال رہے کہ نیوزی لینڈ کے قوانین کے مطابق نفرت انگیز اور قابل اعتراض مواد کی سوشل میڈیا پر تشہیر قانوناً جرم ہے اور اس کی زیادہ سے زیادہ سزا 14 سال تک ہو سکتی ہے۔
عدالت نے کرائسٹ چرچ حملے کی ویڈیو شیئر کرنے والے کاروباری شخص فلپ آرپس سے قبل بھی اسی حملے کی ویڈیو کو شیئر کرنے والے ایک نوجوان کو جیل کی سزا سنائی تھی۔
نیوزی لینڈ پولیس نے اس واقعے کے بعد ایسے 5 افراد کو حراست میں لیا تھا جنہوں نے اس واقعے کی ویڈیو سوشل میڈیا پر شیئر کی تھی۔
گرفتار کیے گئے 5 افراد میں سے 2 کو جیل کی سزا سنائی جا چکی ہے جب کہ دیگر پر بھی عدالت میں الزامات عائد کیے جا چکے ہیں۔