ترک صدر نے مرسی کی موت کا قصور وار مصر کی فوج اور حکومت کو ٹھہرایا

ترک صدر رجب طیب اردوان نے مصر کے سابق صدر محمد مرسی کے غائبانہ نمازِ جنازہ میں شرکت کی اور انہیں شہید قرار دیتے ہوئے شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا۔
تفصیلات کے مطابق استنبول کی تاریخی مسجد فتیح میں محمد مرسی کی غائبانہ نمازِ جنازہ ادا کی گئی جس میں ترک صدر سمیت عوام کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور مصر کے سابق صدر کو شاندار الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیا۔
ترک صدر نے مرسی کی موت کو ماورائے عدالت قتل قرار دیتے ہوئے اس کا قصور وار مصر کی فوج اور حکومت کو ٹھہرایا۔ رجب طیب اردوان نے محمد مرسی کو شہید قرار دیتے ہوئے کہا کہ مسلمان ان کی خدمات کو ہمیشہ یاد رکھیں گے کیونکہ انہوں نے ساری زندگی جدوجہد میں گزاری۔
اردوان کا کہنا تھا کہ مجھ سمیت تمام مسلمان آخری سانس تک شایانِ شان جدوجہد کرنے والے صدر کو ہر صورت یاد رکھیں گے کیونکہ انہوں نے اپنے اصولوں پر سمجھوتا کرنے کے بجائے شہادت قبول کرنے کو ترجیح دی اور یہی ایک عظیم رہنما کی نشانی ہوتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ جن لوگوں نے سابق صدر کو معزول کر کے انہیں قید میں رکھا اور ان پر کسی بھی قسم کا تشدد کیا یا پھر انہیں سزائے موت کی دھمکیاں دیں، تاریخ ایسے ظالموں کو کبھی معاف نہیں کرے گی، ایک وقت آئے گا جب ظالموں کے چہرے بے نقاب ضرور ہوں گے۔
اردوان کا کہنا تھا کہ مجھے مرسی کی موت پر بہت زیادہ دکھ ہوا کیونکہ وہ ہمارے دیرینہ دوست تھے، مرحوم کو فوجی بغاوت کر کے عہدے سے سبکدوش کیا گیا جس کے بعد انہیں عدالتوں سے باغی قرار دے کر سزائے موت بھی سنائی گئی۔ محمد مرسی کو خراجِ تحسین پیش کرتے ہوئے ترک صدر کا کہنا تھا کہ وہ ایک ایسا بہادر شخص تھا جس نے سمجھوتا کرنے کے بجائے اپنی آخری سانسیں بھی عدالت میں ہی لیں، ظالم لوگ عوام یا اچھے حکمران کو قتل تو کرسکتے ہیں مگر ان کی جدوجہد کو کبھی ختم نہیں کرسکتے۔
یاد رہے کہ مصر کے سابق صدر گزشتہ روز دوران سماعت عدالت میں انتقال کرگئے تھے، انہیں 2013 میں فوجی بغاوت کے بعد عہدے سے ہٹا کر حراست میں لیا گیا تھا جس کے بعد سے وہ اپنے آخری دن تک جیل میں ہی تھے۔