ایف بی آر وفاقی کابینہ اور اراکین پارلیمنٹ سے کیا خفیہ رکھنے پرہوئے مجبور ؟

 حکومت کی اعلان کردہ ایمنسٹی اسکیم پر پاکستانیوں کا ردعمل اب تک انتہائی مایوس کُن رہا ہے۔ وزیراعظم عمران خان کے ٹیلی ویژن خطابات میں اپیلوں کے باوجود اب تک 250 سے بھی کم پاکستانیوں نے ان کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے محض 45 کروڑ روپے ٹیکس کی مد میں ادا کیے ہیں۔
پچھلے ایک ماہ کے دوران ایمنسٹی اسکیم کے مایوس کُن نتائج نے فیڈرل بورڈ آف ریونیو کو اعدادوشمار اراکین پارلیمان اور وفاقی کابینہ سے خفیہ رکھنے پر مجبور کردیا ہے۔
واضح رہے کہ وفاقی کابینہ اور قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کالا دھن سفید کرنے کی وزیراعظم کی اسکیم کو کامیاب بنانے کے لیے علیٰحدہ علیٰحدہ حیثیت میں عمل کررہی ہیں۔ ایف بی آر نے آئندہ ہفتے وفاقی کابینہ کو ایمنسٹی اسکیم کی تفصیلات سے آگاہ کرنے کا وعدہ کیا ہے۔
ایف بی آر میں موجود ذرائع نے ایکسپریس ٹریبیون کو بتایا کہ ایمنسٹی اسکیم کے نتائج انتہائی مایوس کن ہیں اور لوگوں نے وزیراعظم کی اپیلوں اور ایف بی آر کی جانب سے شروع کی گئی مہم کو قابل توجہ نہیں سمجھا۔
ذرائع کے مطابق تقریباً 250 افراد نے اسکیم سے استفادہ کرتے ہوئے محض 45 کروڑ روپے قومی خزانے میں جمع کرائے ہیں تاہم وزیرمملکت برائے خزانہ احماد اظہار نے ایکسپریس ٹریبیون سے بات چیت کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ آئندہ ہفتے سے ایمنسٹی اسکیم پر لوگوں کا ردعمل بہتر ہوجائے گا کیوں کہ انھیں ٹیکس بارز اور علاقائی ٹیکس دفاتر سے حوصلہ افزا فیڈ بیک مل رہا ہے۔ وزیراعظم عمران خان کی کالادھن سفید کرنے کی اسکیم 30 جون کو ختم ہوجائے گی۔