ہمسائے ملک کا اک اور وار، کون کھڑا ہوا پاکستان کے ساتھ؟

فنانشل ایکشن ٹاسک فورس(ایف اے ٹی ایف)کے اجلاس میں بھارت کی پاکستان کو بلیک لسٹ کرنے کی قرارداد چین،ترکی اور ملائیشیا نے روک دی ہے تاہم بھارت کل تک دوسری قرارداد لاسکتا ہے ۔
 ایف اے ٹی ایف حکام 21جون کو پاکستان کے بارے میں اظہار خیال کرسکتے ہیں اور پاکستان کے بلیک لسٹ ہونے یا نہ ہونے سے متعلق فیصلہ بدھ کو ہوگا۔ پاکستان کو بلیک لسٹ کر نے کی بھارتی قرارداد کو وقتی طور پرچین ،ترکی اور ملائیشیا کی جانب سے مشترکہ طور پر روک دیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ ایف اے ٹی ایف کا اجلاس فلوریڈا کے شہر اورلینڈو میں ہورہاہے۔  جس میں شرکت کے لیےسیکریٹری خزانہ نوید کامران بلوچ کی سربراہی میں پاکستان کا چار رکنی وفد شریک ہے۔  وفد میں سٹیٹ بینک کے فنانشل مانیٹرنگ یونٹ کے ڈی جی ، وزارت خارجہ کے ڈی جی اور پاکستان کے قانونی مشیر شامل ہیں۔ ذرائع نے مزید بتایا کہ پاکستان کے اس اجلاس میں بلیک لسٹ میں جانے کے امکانات کم ہیں۔ اگر پاکستان کو اس اجلاس میں بلیک لسٹ کیا جاتا ہے تو اقتصادی پابندیاں اس اجلاس میں نہیں لگائی جائیں گی ۔
ایف اے ٹی ایف کے ورکنگ گروپ کا اجلاس 16سے 21 جون تک جاری رہے گا جبکہ پاکستان کے بارے میں مذاکرات 19 سے 21جون تک ہوں گے۔ ایف اے ٹی ایف کا سالانہ اجلاس ستمبر میں پیرس میں ہوگا۔  جس دوران فلوریڈا اجلاس کا فیصلہ بڑی حد تک اثرانداز ہوگا۔  پاکستان اگر ممکنہ دوسری قرارداد میں بھی فلوریڈا اجلاس کے دوران تین ووٹ لینے میں کامیاب ہوگیا تو پیرس اجلاس میں بلیک لسٹ ہونے سے بچ جائے گا۔  اسی طرح اگر پیرس اجلاس میں15 ممالک کی حمایت حاصل کرنا میں کامیاب ہوگیا تو گرے لسٹ سے بھی نکل جائے گا۔
اس سے پہلے پاکستان کے 12رکنی وفد نے 14اور 15مئی کو چین کے شہر گوانگ زو میں ایف اے ٹی ایف کے اجلاس میں شرکت کی تھی۔