میرے پکڑنے سے پیپلزپارٹی کو فرق نہیں پڑتا: آصف زرداری

سابق صدر آصف علی زرداری نے کہا حساب کتاب اور پکڑ دھکڑ بند ہونی چاہیے, میرے پکڑنے سے پیپلزپارٹی کو فرق نہیں پڑتا، عام لوگ خوفزدہ ہیں، ایسا ماحول نہ بنائیں جس کو کوئی بھی سنبھال نہ سکے۔
تفصیلات کے مطابق سابق صدر اور پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین آصف علی زرداری نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے کہا پروڈکشن آرڈرجاری کرنے پر اسپیکر قومی اسمبلی کا مشکور ہوں، حکومت کا بجٹ اخباروں میں دیکھا، اس میں صداقت نہیں بجٹ حکومت کے فنانس ڈیپارٹ نے بنایا۔
سابق صدر کا کہنا تھا بجٹ میں کاٹن پرتوجہ نہیں دی گئی، کاٹن انڈسٹری توجہ طلب ہے، کاٹن برآمد کرنے سے معیشت کوفائدہ ہوسکتا تھا، ہمارے دور میں کاٹن انڈسٹری پرخصوصی توجہ دی گئی تھی، آج بھی کہتاہوں تین چار ایسی چیزیں ہیں جس پرساتھ بیٹھ سکتے ہیں۔
آصف علی زرداری نے کہا معاشی پالیسی پرحکومت اور اپوزیشن کوساتھ بیٹھنے سے فائدہ ہوگا، اس میں کوئی قباحت نہیں، ہم ملک کیلئے ساتھ بیٹھ سکتے ہیں، آج آپ ہیں کل کوئی اور ہوگا، ہمیں مل کر ساتھ چلنا ہوگا۔
ان کا کہنا تھا پاکستان ہےتوہم ہیں پاکستان نہیں توکوئی نہیں، بی بی کی شہادت کے بعد کھڑے ہوکر کہا پاکستان کھپے، انفرادی طور پر کوئی کچھ نہیں، ہمیں مل کر پاکستان کیلئے کام کرنا ہے۔
پیپلزپارٹی کے شریک چیئرمین نے کہا سب اچھاہے تو کیوں لوگ، انڈسٹریاں رو رہی ہیں، آپ نے ملازمین کی تنخواہیں بڑھائی ہیں تو ساتھ ٹیکس بھی لگا دیا ہے، ان لوگوں سے وصولی کی جارہی ہے، جو پہلے سے ہی ٹیکس دینے والے ہیں، ایسا خوف ہے کہ کوئی دھندا کرنے کیلئے تیار ہی نہیں ہے۔
آصف علی زرداری کا کہنا تھا اکاؤنٹ میں 5لاکھ روپے ہیں تو اگلے دن ہی ایف بی آر کا نوٹس، ہم کس طرف جارہے ہیں، کیا معاملات بنارہے ہیں، ہم نے مشرف کا دور بھی دیکھاہے، میرے پکڑنے سے پیپلزپارٹی کو فرق نہیں پڑتا، عام لوگ خوفزدہ ہیں۔
 
سابق صدر کا کہنا تھا اسمبلی میں آکر یادیں تازہ ہورہی ہیں، پہلے بھی جیل سے آتا رہا ہوں، بلوچستان کے دوستوں کا شکرگزارہوں مشکل وقت میں ہماراساتھ دیا، ایم کیوایم اور دیگرجماعتوں کابھی مشکور ہوں، حساب کتاب اور پکڑ دھکڑب ندہونی چاہیے۔