اسلام سزا جزا کا نظام ہے، قومی دولت لوٹنے والوں کوسزا نہ دیں ایسا نہیں ہوسکتا: اسد عمر

سابق وزیر خزانہ اسدعمر نے کہا ملک کیلئے حساب کتاب اورپکڑدھکڑ ہورہی تو اچھی بات ہے، قومی دولت لوٹنے والوں کو سزانہ دیں ایسا نہیں ہوسکتا، چینی پر ٹیکس مناسب نہیں واپس لینا چاہیے، چینی کی قیمتیں کم کرنی چاہیے۔
تفصیلات کے مطابق سابق وزیر خزانہ اسدعمر نے قومی اسمبلی میں اظہار خیال کرتے ہوئے آصف زرداری کے بیان پر کہا حساب کتاب اور پکڑدھکڑ اگر ملک کیلئے ہورہی ہے تو اچھی ہے لیکن پکڑ دھکڑ سیاسی انتقام کےلیےہورہی ہےتوملک کےلیےاچھی نہیں۔
اسد عمر کا کہنا تھا اسلام سزا جزا کا نظام ہے، ناچیز بندوں کا اس سے تعلق نہیں اور جو بھی کام کیا جاتا ہےاس کاصلہ ملتا ہے، اللہ کہتا ہے نیکی کے بدلے جزا اور بدی کے بدلے سزا ہوگی۔
انھوں نے کہا قومی دولت لوٹنے والوں کوسزا نہ دیں ایسا نہیں ہوسکتا، ایک شخص اسمبلی میں کھڑے ہو کر کہتا ہے میرا منہ نہ کھلواؤ تم نےکیا کیا، ماحول یہ ہے ارکان ایک دوسرے پر الزامات کے بعد ساتھ کھڑے ہوتے ہیں ، قومی دولت لوٹنے والوں کیخلاف ایکشن لیاگیاہے، جمہوریت کامطلب قانون کی حکمرانی ہوتاہے۔
سابق وزیر خزانہ نے کہا معیشت کوکئی برسوں تک مختلف مسائل کا سامنا رہا، کم وقت میں فوری طور پرطلب کم کی جاسکتی ہے، ن لیگ کے والےمعیشت کی مہلک بیماری چھوڑ کر گئے تھے، سلیم مانڈوی والاجب وزارت چھوڑ کر گئے تو ڈھائی ارب ڈالر بجٹ خسارہ تھا۔
ان کا کہنا تھا بجٹ بنانےوالی ٹیم کوخراج تحسین پیش کرتاہوں، حکومتی کوششوں سےچندماہ میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارے میں70فیصد کمی آئی، ایسے اقدامات نہ کیے جائیں، جس سے ایکسپورٹرز کے اعتماد ٹوٹ جائے اور ایکسپورٹرز کا اعتماد ٹوٹ گیا توبحال ہوتے ہوتے دوسے ڈھائی سال لگ جائیں گے۔
اسد عمر نے کہا برآمدات بڑھانےتک بین الاقوامی طاقتوں پر انحصار ختم نہیں ہوگا، فوری طور پر جی آئی ڈی سی ختم کر کے یوریا کی بوری پر 400روپے ختم کرائیں، نئی سرمایہ کاری لانے والوں کو 5سال کیلیے ٹیکس سے استثنا دینا چاہیے۔
سابق وزیر خزانہ کا کہنا تھا بجٹ میں کچھ ایسےاقدامات ہیں جس پرنظرثانی کرنی چاہیے، چینی کی قیمتوں میں اضافہ کیاگیا اس پرنظرثانی کرنی چاہیے، بجٹ اجلاس میں کسی اور کا نہیں معلوم شیخ رشید نے چینی کی قیمتوں پراعتراض کیا، چینی پر ٹیکس مناسب نہیں واپس لینا چاہیے، چینی کی قیمتیں کم کرنی چاہیے اور چینی کی قیمتیں بڑھنےکی تحقیقات ہونی چاہئیں۔
انھوں نے مزید کہا کھانے پکانے کے تیل وگھی پرجو ٹیکس لگایاگیا اور چھوٹی گاڑیوں پرایف ای ڈی بڑھادی گئی اس پربھی نظرثانی ہونی چاہیے۔
اسد عمر کا کہنا تھا مشکلات کےباوجودکوشش ہونی چاہیےنچلےطبقےپرکم بوجھ پڑے، محنت کشوں کیلئےہمیں مزیداقدامات کرنےکی ضرورت ہے، احساس پروگرام سےمتعلق کچھ تجاویزدینا چاہتاہوں، درخواست ہے پنشن میں10سے15فیصد مزید اضافہ کیاجائے اور گھریلوملازمین کی بھی جسٹریشن کرائی جانی چاہیے۔
انھوں نے کہا محنت کشوں کی بڑی تعدادآج بھی رجسٹرڈنہیں ہے، محنت کشوں کو رجسٹرڈ کیاج ائے اور ای اوبی آئی میں رجسٹرڈ کیا جائے، کم وقت میں صرف طلب کم کی جاسکتی ہے رسدنہیں بڑھائی جاسکتی، بھٹہ مزدورسےمتعلق بھی اقدامات کیےجائیں۔
جس پر اسپیکرنےاسدعمرکوبھٹہ مزدوروں سےمتعلق بل لانےکی ہدایت کردی، سابق وزیر خزانہ نے کہا آیندہ سے ہر سال 50ہزار گھر مزدوروں کےلیے بنائے جائیں ، بھٹہ مزدوروں کی بھی رجسٹریشن کرائی جانی چاہیے، فیصلےصرف ارب پتی اسٹاک بروکرزکےلیےنہیں لیےجاتے، ملک لوٹنےوالوں کےلیے جزا وسزا کا نظام آئینی ذمے داری ہے۔
اسد عمر نے کہا 35 فیصدبجلی کی قیمت عام آدمی زندگی پرکتنا اثرکرتی ہے ، گیس کی قیمت پرکہتےتھےن لیگ کاخسارہ بھی کم کرو،چینی امیرآدمی نہیں بلکہ غریب کی توانائی کاذریعہ ہے ، کھادکی بوری پر400روپےمخصوص ٹیکس وصول کیاجارہاہے، جی آئی ڈی سی یاتومکمل ختم کیاجائے، مشکل حالات میں سفیدپوش طبقے پر کم بوجھ ڈالناہے، باہرسے آنے والی آمدن کو بڑھاناہے۔
سابق وزیر خزانہ کا کہنا تھا پی ٹی آئی نےملک میں انصاف کیلئےجدوجہدکی ہے، ہماری جدوجہدکامعاشی انصاف ایک بڑاحصہ ہے ، نیوکلیئرپاورملک کےلوگ ہیں انشااللہ جلد بہتری آئےگی، ہم عوام،کسان،مزدوروں کیلئےکھڑےرہیں گے ، اشرفیہ کیخلاف کھڑےرہیں انشااللہ کامیاب ہوں گے۔