بین الاقوامی مقابلے میں پاکستانی طلبا و طالبات کی کمیابی کے چرچے

برطانیہ میں ہر سال انسٹی ٹیوشن آف مکینکل انجینئرز کی جانب سے اختراعاتی ڈرون اور ہیلی کاپٹر وغیرہ کا عالمی مقابلہ ہوتا ہے اوراس سال نیشنل یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (نسٹ) کے طلبا و طالبات نے اپنا جدید ترین ہیلی کاپٹر ڈرون بناکر اس مقابلے میں اول پوزیشن حاصل کی ہے۔
اس مقابلے میں نسٹ ایئرورکس کی ٹیم نے مکمل طور پر برقی (الیکٹرک) ہیلی کاپٹر تیار کیا تھا جو مقابلے میں شامل واحد ہیلی کاپٹر بھی تھا۔ جبکہ دنیا بھر کی جامعات کے دیگر طلبا و طالبات نے جامد بازوؤں (فکسڈ ونگ) چھوٹے طیارے اور ڈرون پیش کئے تھے۔
انسٹی ٹیوشن آف مکینکل انجینیئرز(IMechE)ایک بین الاقوامی تنظیم ہے جو اس شعبے میں تحقیق اور اشتراک بڑھانے میں اپنا اہم کردار ادا کررہی ہے۔ اس کا صدر دفتر لندن میں واقع ہے۔ کئی ممالک اس کے باقاعدہ رکن ہے جنہیں کنٹری چیپٹر کہا جاتا ہے۔گزشتہ چند برسوں سے یہ تنظیم غیر انسانی طیاروں یا ان مینڈ ایئرکرافٹ سسٹمز (یو اے ایس) مقابلے کا اجرا کررہی ہے۔ ان مقابلوں میں دنیا بھر کی جامعات اور اداروں کے طلبا و طالبات شامل ہوتے ہیں اور اپنی تخلیقات پیش کرتے ہیں۔
یو اے ایس 2019 کے مقابلے میں نسٹ کی ایئر ورکس ٹیم بی ٹا کو اول انعام کا حقدار ٹھہرایا گیا جو پاکستان کے لیے بلاشبہ ایک بڑا اعزاز ہے جبکہ کوئنز یونیورسٹی بلفاسٹ کے دو گروپوں نے دوم اور سوم پوزیشن حاصل کی۔
اس کے علاوہ دیگر 32 جامعات اور تحقیقی اداروں کے نوجوانوں نے اپنے ڈرون اور ائیرسسٹم پیش کئے۔ ان ممالک میں برطانیہ، کینیڈا، ہالینڈ اور دیگر شامل تھے۔ واضح رہے کہ خود نسٹ کی دو ٹیمیں مقابلے میں شریک تھیں۔
جن میں ایلفا اور بی ٹا شامل ہیں ۔ تاہم غلام اسحاق خان اور صفہ یونیورسٹی کی ٹیمیں بھی مقابلے میں شریک تھیں۔