حب الوطنی کی مثال۔۔۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کیلئے کوچنگ کی خدمات پیش

پاکستان کے سابق ٹیسٹ وکٹ کیپر عتیق الزماں کا کہنا ہے کہ میں انگلینڈ میں کسی بھی کاﺅنٹی کا پہلا ویمنز ہیڈ کوچ ہوں۔ انگلینڈ میری خدمات سے استفادہ کررہا ہے اگر پاکستان میری خدمات سے فائدہ اٹھائے تو میں حاضر ہوں ملک کے لئے کام کرنا اعزاز ہوگا۔

تفصیلات کے مطابق ورلڈ کپ میں پاکستانی ٹیم کے غیر ملکی کوچنگ اسٹاف کی کارکردگی پر ماہرین سوالات اٹھارہے ہیں ایسے میں وہ کوچنگ میں ماسٹرز کرنے والے عتیق الزماں نے شکوہ کیا کہ ملک کے لئے کچھ کرنا چاہتا ہوں لیکن کئی کوششوں کے باوجود ناکامی ہوئی۔

مانچسٹر میں مقیم کراچی سے تعلق رکھنے والے عتیق اب برطانوی شہری اور لنکا شائر کاﺅنٹی کی خواتین ٹیم کے ہیڈ کوچ ہیں۔

وہ پاکستان میں سوئی سدرن گیس کے بھی ہیڈ کوچ ہیں جبکہ لاہور قلندرز کی کوچنگ بھی کرچکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ورلڈ کپ میں خراب کارکردگی نے ہمارے سسٹم اور قومی اکیڈمی پر کئی سنجیدہ سوالات اٹھائے ہیں، کھلاڑیوں کوچز کے ساتھ قومی اکیڈمی کے سسٹم کی بھی اوور ہالنگ کرنی چاہیے۔ پی سی بی میں کام کرنے کے لئے کئی بار اشتہار پڑھ کر درخواست دی قومی اکیڈمی کے ڈائر یکٹر مدثر نذر نے وعدہ بھی کیا لیکن میری خدمات سے فائدہ اٹھایا نہیں گیا۔

قومی اکیڈمی کے ساتھ اسائنمنٹ پر کام کر چکا ہوں لیکن مستقل موقع نہیں ملا۔ ان کا کہنا ہے کہ عمران خان، احسان مانی اور وسیم خان کے آنے سے سب سے پہلی تبدیلی قومی اکیڈمی اور قومی ٹیم کے کوچنگ اسٹاف میں ہونی چاہیے۔