سینیٹ کمیٹی نے فنانس بل کیوں کیا مسترد، جانیے حقیقت اس خبر میں

سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ نے ٹیکسز اور قیمتوں میں اضافے پر غور کرنے سے متعلق فنانس بل 2019 کو کثرت رائے سے مسترد کرتے ہوئے موقف اپنایا ہے کہ یہ عوام پر بری طرح سے بوجھ ڈالے گا۔
ذرائع کے مطابق کمیٹی اجلاس میں جے یو آئی (ف) کے سینیٹر طلحہٰ محمود نے فنانس بل کو شق وار پڑھنے کے دوران یہ تجویز پیش کی، ساتھ ہی انہوں نے کہا کہ جس طریقے سے ٹیکسز میں اضافہ ہوا ہے اور قیمتیں اوپر جارہی ہیں ان کے نتائج ظاہر کرتے ہیں کہ ٹیکس تجاویز بہت سخت ہیں لہٰذا اسے مسترد ہونا چاہیے۔
اس پر مسلم لیگ (ن) کی سینیٹر عائشہ رضا فاروق نے تجویز کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں ہمیشہ خسارے کے بجٹ ہوتے ہیں لیکن پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی ایک سال کی غلطیوں کے لیے عوام پر بوجھ نہیں ڈالنا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ حکومت نے معیشت کی اصلی ٹیکس کی صلاحیتوں کو دیکھنے کے بجائے موجودہ ٹیکس دہندگان اور عام آدمی کو نچوڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔
دوران اجلاس حکومتی جماعت پی ٹی آئی کے سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ کمیٹی کو ٹیکس وصولی 5 سو 55 ارب روپے تک بڑھانے کے لیے اس کی تائید کرنی چاہیے، تاہم ساتھ ہی وہ اس بات پر متفق رہے، یہاں تک کہ انہوں نے ایوان میں بجٹ کے مختلف حصوں پر تنقید بھی کی اور مطالبہ کیا کہ سخت اقدامات کو واپس لیا جائے۔
انہوں نے کہا کہ مکمل طور پر فنانس بل مسترد ہونے سے ملک کے لیے مزید پریشانیاں پیدا ہوں گی۔
تاہم اپوزیشن سینیٹرز کی جانب سے اس پر اتفاق نہیں کیا گیا، اجلاس کی صدارت کرنے والے کمیٹی چیئرمین سینیٹر فاروق ایچ نائیک نے تجویز دی کہ فنانس بل کو مسترد کرنے کے لیے ایک رسمی قرارداد منظور ہونی چاہیے۔
بعد ازاں اس قرار داد کو رسمی طور پر ووٹ کے لیے پیش کیا گیا، تاہم سینیٹر محسن عزیز اور آزاد سینیٹر دلاور خان نے اجلاس سے واک آؤٹ کرنے کا فیصلہ کیا، مگر بقیہ سینیٹر عائشہ رضا فاروق، طلحہٰ محمود اور پیپلز پارٹی کے امام الدین نے فنانس بل مسترد کرنے کی قرار داد کے حق میں ووٹ دے کر اسے منظور کروا دیا۔
اسٹیٹ بینک مداخلتاجلاس کے دوران کمیٹی نے متفقہ طور پر سفارش کی کہ ایکسچینج ریٹ کو کم کرنے کے لیے جہاں ضروری ہو وہاں اسٹیٹ بینک آف پاکستان (ایس بی پی) کو مداخلت کرنی چاہیے اور ڈالر کے مقابلے میں ایکسچینج ریٹ کو 150 روپے پر منجمد کرنا چاہیے۔
سینیٹر محسن عزیز نے کہا کہ ڈالر کو 150 روپے پر منجمد کرنا اہم ہے کیونکہ کچھ بیرونی پلیئرز ملک میں داخل ہوئے تھے اور انہوں نے ایکسچینج ریٹ میں مداخلت کی تھی۔
اس کے علاوہ کمیٹی نے متفقہ طور پر یہ بھی سفارش کی کہ اسٹیٹ بینک کے پالیسی ریٹ کو 12 فیصد پر رکھنا چاہیے اور اسی سطح پر برقرار رکھا جائے تاکہ کاروبار میں ترقی ہوسکے۔
ساتھ ہی سینیٹر محسن عزیز نے مطالبہ کیا کہ پالیسی ریٹ کو کم کرکے سنگل ڈیجٹس میں لانا چاہیے کیونکہ بینکوں کو 14 سے 15 فیصد سود کی ادائیگی کے بعد صنعتکاروں کے لیے کچھ باقی نہیں رہتا۔