پاکستان فوج اور حکومت کی کوششیں رنگ لے ہی آئیں

پاکستان کی فوج اور حکومت کی کوششیں رنگ لانا شروع ہوگئی ہیں اور پہلی افغان امن کانفرنس بھوربن مری میں کل منعقد ہو رہی ہے جس میں افغانستان کی 18 سیاسی جماعتوں و گروپس کے 57 مندوبین شریک ہوں گے، شرکاء میں گلبدین حکمت یار،استاد عطاء نور، افغان امن جرگہ کے سربراہ کریم خلیلی اور ازبک رہنما رشید دوستم بھی…
ذرائع کے مطابق پاکستانی حکام کا کہنا ہے کہ لاہور پراسیس سے عوامی رابطوں اور مستقبل کے لیے تجاویز کا تبادلہ موقع ملے گا۔  متعدد سینیٹرز اور اراکین اسمبلی بھی اس کانفرنس میں اپنی آراء پیش کریں گے ۔ لاہور پراسیس میں افغان سیکیورٹی کے مختلف پہلوئوں کا جائزہ لیا جائے گا۔حکام کا کہنا تھا کہ پراسیس سے مستقبل کی حکومتوں کے درمیان اعتماد سازی کی فضاء قائم کرنے میں مدد ملے گی، جبکہ تجارت، روابط، صحت اور دیگر شعبوں پر تفصیلی تبادلہ خیال کا موقع بھی ملے گا۔ اس دوران افغان مہاجرین کی باعزت وطن واپسی کے حوالے سے بھی بات ہوگی، صدر عارف علوی افغان امن کانفرنس کے شرکاء کے اعزاز میں عشائیہ دیں گے۔
رپورٹ کے مطابق اس کانفرنس میں مستقبل میں طالبان کی شمولیت کا بھی امکان ہے تاہم ابھی حتمی طورپر کچھ نہیں کہا جا سکتا۔ یاد رہے کہ یہ کانفرنس ایک ایسے موقع پر ہورہی ہے جب افغان صدر اشرف غنی نے بھی دورہ پاکستان کا اعلان کررکھاہے ۔  ذرائع نے بتایا کہ بھوربن میں ہونیوالی کانفرنس کے شرکاء وزیراعظم عمران خان سے بھی ملاقات کریں گے جبکہ کانفرنس کے افتتاحی سیشن سے پاکستان کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی خطاب کریں گےاور افغانستان کے امن عمل میں پاکستان کی کاوشوں پر روشنی ڈالیں گے اور پڑوسی ممالک میں امن و امان سے متعلق اپنا عزم دہرائیں گے ۔