امریکی ڈرون کی فضائی حدود کی خلاف ورزی کے ناقابل تردید شواہد موجود ہیں: ایران

ایران کا کہنا ہے کہ پاسداران انقلاب کی جانب سے مار گرائے جانے والے امریکی ڈرون کی فضائی حدود کی خلاف ورزی سے متعلق ناقابل تردید شواہد موجود ہیں۔
خبررساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق تہران کا مذکورہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایرانی اہداف پر جوابی حملے کی منظوری اور بعد میں اسے منسوخ کرنے کی رپورٹس کے بعد سامنے آیا۔
گذشتہ روز ایران کی جانب سے امریکی ڈرون گرانے کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافہ ہوا۔
اس حوالے سے واشنگٹن کا اصرار ہے کہ ڈرون بین الاقوامی سمندر میں تھا لیکن ایران کا کہنا ہے کہ وہ اس کی فضائی حدود میں موجود تھا۔
نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق آبنائے ہرمز کے قریب ڈرون مار گرانے کے رد عمل میں ڈونلڈ ٹرمپ نے محدود ایرانی اہداف پر جوابی حملے کے احکامات جاری کیے تھے۔
اخبار کے مطابق امریکا ایرانی اہداف، جیسا کہ ریڈار اور میزائل بیٹریوں کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کررہا تھا، لیکن اس منصوبے کو ابتدائی مراحل ہی میں اچانک منسوخ کردیا گیا۔
دی ٹائمز کے مطابق وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون حکام نے اس حوالے سے تبصرہ کرنے سے انکار کردیا اور کہا کہ یہ واضح نہیں کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے جوابی حملہ موخر کیا ہے یا اسے منسوخ کیا ہے۔
گذشتہ روز ایران کی جانب سے امریکی ڈرون گرانے کے رد عمل میں ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹوئٹ کیا تھا کہ ‘ایران نے بہت بڑی غلطی کی’۔
انہوں نے کہا کہ ‘میرے لیے یقین کرنا مشکل ہے کہ یہ حملہ دانستہ طور پر کیا گیا، میرا خیال ہے کہ یہ کسی احمق شخص کی جانب سے ہی کیا جاسکتا ہے’۔
امریکی صدر کے ملے جلے پیغام سے دنیا کو یہ واضح نہیں ہوسکا کہ واشنگٹن کا اگلا اقدام کیا ہوگا۔
دوسری جانب ایران نے احتجاج کے لیے سوئیڈن کے سفارت کار کو طلب کیا تھا، جن کا ملک 1979 کے ایرانی انقلاب کے بعد سفارتی تعلقات پر امریکا کی نمائندگی کرتا رہا ہے۔
ایرانی وزارت خارجہ جواد ظریف نے کہا کہ نائب وزیر خارجہ عباس نے سوئیڈن کے سفارت کار کو ایرانی فضائی حدود کی خلاف ورزی سے متعلق ‘ناقابل تردید’ شواہد فراہم کیے۔
نائب وزیر خارجہ نے سوئس سفارت کار کو بتایا کہ ‘یہاں تک ڈرون کے ملبے کا کچھ حصہ ایرانی سمندری حدود سے برآمد گیا تھا’۔
انہوں نے اس موقف کو دہرایا کہ ‘ایران خلیج فارس میں جنگ اور تنازع نہیں چاہتا لیکن خبردار کیا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کسی جارحیت کے خلاف اپنی سرزمین کا دفاع کرنے میں ایک لمحے کے لیے بھی نہیں ہچکچائے گا’۔
ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف نے کہا کہ ایران، اقوام متحدہ میں ثابت کرے گا کہ ڈرون گرائے جانے سے قبل وہ تہران کی فضائی حدود میں داخل ہوا تھا’۔
انہوں نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر کیے گئے ٹوئٹ میں کہا کہ ‘ہم جنگ نہیں چاہتے لیکن پرجوش طریقے سے اپنی فضا، سرزمین اور سمندر کا دفاع کریں گے’۔