حکومت کا سگریٹ فروخت بنانیوالی کمپنیوں کے سامنے ہتھیارڈالنا ؟ انتہائی شرمناک خبرآگئی

وزیراعظم عمران خان کی زیرصدارت مئی کے آخر میں ہونیوالے کابینہ ڈویژن کے اجلاس میں سگریٹ پر ہیلتھ ٹیکس لگانے کا فیصلہ کیا گیا جس سے قومی خزانے میں 33بلین رقم کی جمع ہونا تھی ۔ جن میں سے 2 بلین ہیلتھ سیکٹر میں لگانے کا فیصلہ ہوا لیکن اسے بجٹ میں شامل نہیں کیا گیا۔ کیا کسی نے حکومت…
28مئی کو کابینہ اجلاس کے بعد کابینہ ڈویژن کی طرف سے سیکریٹری فنانس، سیکریٹری نیشنل ہیلتھ سروسز اور سیکریٹری ریونیوڈویژن کو کہا گیا تھا کہ رولزآف بزنس کے تحت کابینہ کا فیصلہ موصول ہونے کے بعد سات دن کے اندر کابینہ ڈویژن میں عمل درآمد رپورٹ جمع کرائیں ۔ کابینہ میں پیش کیے گئے مجوزہ بجٹ سٹریٹجی پیپر میں بھی یہ بات واضح کی گئی کہ 20 سگریٹ کی ڈبیہ پر 10روپے اور ایک ریگولر بوتل پر ایک روپے ٹیکس ہرحال میں لگایا جائے ۔ اس مد میں وصول ہونیوالی رقم ہیلتھ سیکٹراور دیگر جگہوں پر خرچ ہوسکے گی ۔ فنانس بل میں غیرقانونی مینوفکچرنگ اور تمباکو کے دو نمبر برانڈز کیخلاف کارروائی کا بھی عندیہ دیا گیاتھا ۔
سوشل میڈیا پر وائرل کچھ دستاویزات کے مطابق اس کے بعد 30 مئی کو پاکستان ٹوبیکو کمپنی کی طرف سے ایک خط آیا جس میں لکھا گیا تھا کہ ممکنہ ٹیکس کی خبریں ملی ہیں اور اس سے پہلے بھی 21 فروری 2019ء کو یہ معاملہ کابینہ کے اجلاس میں زیربحث آچکا ہے تاہم ٹوبیکو کی صنعت پر اس کے اثرات کی وجہ سے موخر کردیا گیا۔  اس خط میں مزید کہا گیا کہ ملک میں دوطرح کی سگریٹ انڈسٹری کام کررہی ہے ۔ ایک ریگولرٹیکس اداکررہی ہے اور گزشتہ مالی سال کے دوران 80 بلین روپے ادا کیے جبکہ دوسری لوکل کمپنیز ہیں جوکہ مجموعی استعمال کا 35 فیصد سگریٹ بنارہی ہیں اور مجموعی ٹیکس کا صرف دو فیصد ادا کررہی ہیں ۔ دونوں کے درمیان مقابلہ نہیں ۔ یہ بات بھی ثابت شدہ ہے کہ بھاری ٹیکسوں کی وجہ سے لوکل اور بڑی کمپنیوں کی سگریٹس کی قیمتوں میں بے تحاشا فرق بن گیا اور صارفین مجبوراً مقامی سطح پر تیارہونے والے سستا اور غیرمعیاری سگریٹ لینے پر مجبور ہوگئے جہاں سے صحت کا مسئلہ شروع ہوتاہے ۔