ورلڈ کپ: کرکٹ کی ہوبحث، یونس خان بھلا پیچھے کیوں رہیں؟

سابق کپتان یونس خان کا کہنا ہے کہ کرکٹ سے عوام کی امیدیں ٹوٹنے اور مایوسی کی شروعات 1993 سے ہوئی۔

پاکستان ٹیسٹ کرکٹ کے سب سے بڑے بیٹسمین یونس خان کہتے ہیں کہ پاکستان کرکٹ سے لوگوں کی محبت اور ناراضگی چلتی رہتی ہے، البتہ انھیں اس وقت افسوس ہوتا ہے، جب وہ کرکڑز پاکستان کرکٹ میں گروپ بندی کی باتیں کرتے ہیں، جو خود پاکستان کرکٹ میں گروپ بندی کے لئے شہرت رکھتے ہیں۔

118 ٹیسٹ میچوں میں 34 سنچریوں کے ساتھ 10099 رنز بنانے والے یونس خان کا کہنا ہے کہ سابق کرکٹرز کو قومی ٹیم کے بارے میں گروپ بندی کی باتیں کرنے سے گریز کرنا چاہئیے۔

پاکستان کرکٹ کی تباہی کے سوال پر 2009ء آئی سی سی ورلڈ ٹی 20کے فاتح کپتان کا مؤقف تھا کہ وہ تباہی کا لفظ تو استعمال نہیں کریں گے، تاہم وہ کسی شک و شبہے کے بغیر دو ٹوک الفاظ میں یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ عوام کی امیدوں کے پاکستان کرکٹ سے ٹوٹنے اور مایوس ہونے کی شروعات 94-1993 سے ہوئی۔

یونس خان نے کہا کہ اس دور میں جو کھلاڑی میچ فکسنگ میں ملوث تھے، جنہیں سزائیں ہوئیں، چاہے وہ کتنے ہی بڑے تھے، کرکٹ کی دنیا میں انہیں لیجنڈ کہا جاتا ہے، اگر انہیں پاکستان کرکٹ سے اس وقت الگ کر دیا جاتا تو آج نہ ہم یہاں کھڑے ہوتے بلکہ قومی ٹیم میں گروپ بندی اور چپقلش کی باتیں بھی دوبارہ نہ ہوتیں۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ سب کچھ 94-1993 میچ فکسنگ کے بعد شروع ہوا اور آج بھی یہ سلسلہ تسلسل کے ساتھ چل رہا ہے، ہماری ٹیم بری نہیں البتہ سلیکشن اور دیگر معاملات میں مسائل ہیں، ورنہ جس ٹیم کو آج تنقید کا نشانہ بنایا جارہا ہے، اسی ٹیم نے سرفراز احمد کی قیادت میں ٹرینٹ برج ناٹنگھم پر انگلینڈ جیسی مضبوط ٹیم کو شکست دی تھی۔