ذاتی حملوں پر کپتان سرفراز نے آخر کار اپنی خاموشی توڑ دی

گالم گلوچ اور ذاتی حملوں پر کپتان سرفراز احمد کا ضبط بھی جواب دے گیا، انھوں نے کہا کہ خراب کھیل پر تنقید ضرور کریں گالیاں تو نہ دیں۔

اگر میں ان کے بارے میں کچھ کہوں تو یہ ایک ایشو بن جائے گا، بہتر یہی ہے کہ کچھ نہ کہوں۔
وہ سمجھتے ہیں کہ ہم کرکٹرز ہی نہیں ہیں، اس لیے اگر ہم انھیں جواب دیں گے تو وہ اسے ایک جرم کی طرح لیں گے وہ ’خدا بن کے ٹی وی پر بیٹھے ہیں‘۔
سرفراز نے کہا کہ ٹیم میں کسی قسم کی دھڑے بندی نہیں ہے، جب آپ ہاریں تو پھر لوگ اسی طرح کی باتیں کرتے ہیں۔

تفصیلات کے مطابق شائقین کی جانب سے ہونے والی فقرے بازی اور کچھ لوگوں کی گالم گلوچ سے متعلق کپتان نے کہا کہ سوشل میڈیا اور روایتی میڈیا ہمارے کنٹرول میں نہیں ہے۔
وہ بہت بڑے اور آپ انھیں روک نہیں سکتے، ٹیمیں پہلے بھی ہارتی رہی ہیں مگر اب سوشل میڈیا پر طوفان مچ جاتا ہے، جس کے ذہن میں جو آئے وہ لکھ دیتا ہے، ایسی چیزوں سے پلیئرز نفسیاتی طور پر کافی متاثر ہوتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ہمارے کھیل پر بے شک تنقید کریں کوئی مسئلہ نہیں ہے مگرگالیاں تو نہ دیں،اس سے کھلاڑیوں کی فیملیز متاثر ہوتی ہے، ہمارے شائقین کافی جذباتی ہیں، فتح پر یہی لوگ ہمیں کندھوں پر اٹھا لیتے ہیں۔
اگر شکست پر وہ دکھی ہوتے ہیں تو ہم ان سے زیادہ دکھ محسوس کرتے ہیں، ہم پاکستان کیلیے ہی کھیل رہے ہوتے ہیں۔