امریکی جارحیت کا بھرپور جواب دیں گے: ایران

ایران کی جانب سے جدید ترین امریکی ڈرون گرائے جانے کے بعد کشیدگی عروج پر ہےامریکی دھمکیوں کے بعد ایران نے بھی جارحیت کی صورت میں بھرپور جواب دینے کا عزم ظاہرکیا ہے، ادھر ٹرمپ نےایک بار پھرایران کے ساتھ بغیرکسی پیشگی شرط مذاکرات پر آمادگی کا اظہار کیا ہے۔
جدید ترین ڈرون گرئے جانے کے بعد امریکا میں آفٹر شاکس کا سلسلہ جاری ہے۔
ایران کے دفتر خارجہ کے ترجمان عباس موسوی نے جمعرات کو پریس بریفنگ سے خطاب کر تے ہوئے کہا کہ امریکی دھمکیوں کے باؤجود ہم اپنی سرحدوں کی مکمل حفاظت کیلئے پر عزم ہیں اور کسی بھی جارحیت کا بھرپور جواب دینے کیلئے تیار ہیں، چاہے اس کے جو بھی نتائج نکلیں۔
ادھر ایران کی جانب سے گرائے جانے والے ڈرون کے باقیات کو بھی دنیا کے سامنے پیش کیا گیا،اس دوران ایرانی پاسداران انقلاب کے سینئر کمانڈرکا کہنا تھا کہ گرائے گئے ڈرون کے پیچھے پینتیس مسافر لئے جہاز کو بھی گرا سکتے تھے لیکن انسانی ہمدردی کے تحت صرف وارننگ دے کر چھوڑا گیا۔
دوسری طرف خفت کا شکار بد زبان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے این بی سی ٹی وی کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ پیشگی شرط کے بغیر ایران کے ساتھ مذاکرات کے لئے آمادہ ہیں۔، ان کا کہنا تھا کہ وہ ایران کے روحانی پیشوا آیت اللہ العظمی علی خامنہ ای یا ایران کے صدر حسن روحانی کے ساتھ مذاکرات کرنا چاہتے ہیں۔
ٹرمپ نے کہا کہ وہ ایران کے میزائل سسٹم کے بارے میں مذاکرات کریں گے ۔ اور ایران کے بیلسٹک میزائل کے بارے میں گفتگو ہونی چاہیے۔ ادھر ایران نے اپنے دفاعی معاملات پر گفتگو کرنے سے پہلے ہی انکار کرتے ہوئے کہا کہ امریکہ ناقابل اعتماد ملک ہے۔