سری لنکا کے سب سے بڑے بدھ راہب نے حکم دے دیا، مسلمانوں کو سنگسار کردو

سری لنکا میں ایسٹر حملوں کے بعد سے مسلمانوں کے خلاف نفرت میں اضافہ ہورہا ہے جس میں بدھ راہب وقتاً فوقتاً نفرت پر مبنی بیانات جاری کرکے اضافہ کرتے رہتے ہیں۔ حال ہی میں سری لنکا کے سب سے بڑے بدھ راہب نے اپنے پیروکاروں کو مسلمانوں کو سنگسار کرنے کا حکم دیا ہے۔
 ایک قومی ٹی وی پر نشر ہونے والی اپنی تقریر میں بدھ راہب ’وارکاگودا سری گانا راتھنا تھیرو‘ نے الزام عائد کیا کہ کرونیگالا ضلع میں ایک مسلمان ڈاکٹر نے 4 ہزار بدھ خواتین کو بانجھ بنادیا ہے۔ انہوں نے کہا ’ میری بہت سی خواتین پیروکار یہ کہتی ہیں کہ ڈاکٹر جیسے لوگوں کو سنگسار کردینا چاہیے، میں یہ نہیں کہہ رہا لیکن ہونا ایسا ہی چاہیے۔‘ سری لنکا کے کسی بھی سرکاری ادارے کی جانب سے مسلمان ڈاکٹر پر اس الزام کی تصدیق نہیں کی گئی ۔
بدھ راہب ’وارکاگودا سری گانا راتھنا تھیرو‘ سری لنکا کی سب سے پرانی بدھ کمیونٹی آسگیریا کے سربراہ ہیں۔ انہوں نے اپنی تقریر کے دوران مسلمانوں کے ریستورانوں کا بھی بائیکاٹ کرنے کی اپیل کی ۔ ’ ان ہوٹلوں سے کھانا مت کھاﺅ، وہ لوگ جو یہاں سے کھانا کھاتے ہیں وہ بانجھ ہوجائیں گے اور کبھی بھی بچوں کے والدین نہیں بن سکیں گے‘۔
بعد ازاں انہوں نے اپنی تقریر کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے صرف وہی بات کی ہے جو سری لنکا کی اکثریت کے ذہنوں میں ہے۔
بدھ راہب ’وارکاگودا سری گانا راتھنا تھیرو‘ کے حکم کے بعد سے مسلمان کمیونٹی سے تعلق رکھنے والے سیاستدانوں اور سماجی حقوق کے کارکنوں نے سخت تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ پہلے بھی بدھ انتہا پسندوں نے مسلمانوں کی املاک کو نقصان پہنچایا تھا اور ابھی معاملات صحیح طریقے سے درست بھی نہیں ہوئے کہ ایک بڑے راہب کی جانب سے اس بات سے مسلم کمیونٹی کے خلاف حملوں کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔
خیال رہے کہ سری لنکا کی مجموعی آبادی 2 کروڑ 10 لاکھ سے زیادہ ہے جس میں 70 فیصد بدھ مت اور 10 فیصد مسلمان ہیں۔گزشتہ برس بھی مسلمانوں کے خلاف بدھ متوں نے پرتشدد کارروائیاں کی تھیں جن میں کئی لوگ مارے گئے تھے جبکہ املاک کو بھی نقصان پہنچایا گیا تھا۔ گزشتہ دنوں سری لنکا میں ایسٹر پر ہونے والے خود کش حملوں کے بعد بھی حالات خراب ہونے لگے تھے لیکن سری لنکن حکومت نے کرفیو نافذ کرکے صورتحال کو کنٹرول میں کرلیا تھا۔