ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر مزید پابندیوں کے حکم نامے پر دستخط کر دیئے

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران پر مزید پابندیاں عائد کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای اور فوجی کمانڈروں پر مالی پابندیوں سے متعلق حکم نامے پر دستخط کر دیے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ امریکا، ایران کے ساتھ تنازع نہیں چاہتا لیکن جوہری ہتھیاروں کی تیاری اور دہشت گرد گروہوں کی حمایت سے روکنے کے لیے دباؤ ڈالتا رہے گا۔
ٹرمپ نے اس فیصلے کو ایران کی بڑھتی جارحیت کا ٹھوس جواب قرار دیا اور اپنے موقف کو دہرایا کہ ایران کبھی بھی جوہری ہتھیار نہیں رکھ سکتا۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا کہ یہ پابندیاں ایران کی جانب سے جاری مسلسل جارحیت سمیت آبنائے ہرمز پر 10 کروڑ ڈالر مالیت کے امریکی ڈرون گرانے کے جواب میں عائد کی گئی ہیں۔
امریکی صدر نے کہا کہ پابندیوں کا خاتمہ ایران کے ردعمل پر منحصر ہے، یہ پابندیاں کل بھی ختم ہوسکتی ہیں یا اس میں کئی سال بھی لگ سکتے ہیں۔
ٹرمپ انتظامیہ نے کہا کہ امریکا، ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف کو بلیک لسٹ اور ’اربوں‘ کے ایرانی اثاثے منجمد کرے گا جبکہ اس فہرست میں پاسداران انقلاب کے 8 اعلیٰ کمانڈرز بھی شامل ہیں۔
دو روز قبل امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے صحافیوں کو بتایا تھا کہ اگر ایران جوہری ہتھیاروں سے دست بردار ہونے پر آمادہ ہوجائے تو وہ تہران کے بہترین دوست بننے کو تیار ہیں۔
انہوں نے کہا تھا کہ ’جب ایران اس بات پر متفق ہوگا تو وہ ایک دولت مند ملک بنے گا، وہ خوش ہوں گے اور میں ان کا بہترین دوست بنوں گا‘۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر کیے گئے ٹوئٹ میں ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ ’ہم پیر (24 جون) سے ایران پر اہم اضافی پابندیاں عائد کر رہے ہیں‘۔
انہوں نے کہا تھا کہ ’میں اس دن کا انتظار کر رہا ہوں جب ایران سے پابندیاں ہٹائی جائیں اور وہ دوبارہ خوش حال قوم بن جائے، ایسا جتنا جلدی ہو اتنا ہی بہتر ہوگا‘۔
دوسری جانب ایران کی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ امریکا کی نئی پابندیوں سے کوئی ’ اثرات‘ مرتب نہیں ہوں گے۔
وزارت خارجہ کے ترجمان عباس موسوی نے تہران میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ ’ہم حقیقت میں نہیں جانتے کہ نئی پابندیاں کیا ہیں اور وہ مزید کس چیز کو نشانہ بنانا چاہتے ہیں اور ہم یہ بھی نہیں سمجھتے کہ ان پابندیوں کے کوئی اثرات مرتب ہوں گے‘۔
خیال رہے کہ چند روز قبل ایران کی پاسداران انقلاب نے جنوبی ساحلی پٹی پر امریکی جاسوس ڈرون مار گرانے کا دعویٰ کیا تھا۔
پاسداران انقلاب کے اعلامیے میں کہا گیا تھا کہ کوہ مبارک نامی حصے میں ایرانی فضائیہ نے امریکی ساختہ گلوبل ہاک ڈرون کو ملک کی فضائی حدود کی خلاف ورزی پر نشانہ بنایا تھا۔
دوسری جانب امریکی فوج کی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے تصدیق کی تھی کہ ایرانی فورسز نے نگرانی پر مامور امریکی نیوی کے ڈرون آر کیو-4 گلوبل ہاک مار گرایا ہے، تاہم ان کا اصرار تھا کہ ڈرون کو بین الاقوامی فضائی حدود میں بلاوجہ نشانہ بنایا گیا۔
سینٹرل کمانڈ کے ترجمان نیوی کیپٹن بل اربن نے ایک بیان میں کہا تھا کہ ایرانی فورسز نے آبنائے ہرمز میں بین الاقوامی فضائی حدود میں موجود ڈرون کو نشانہ بنایا۔
واضح رہے کہ امریکا نے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے پر تنازع میں شدت کے بعد تہران کو دباؤ میں لانے کے لیے خلیج فارس میں بی 52 بمبار سمیت متعدد طیارے اور جنگی بحری بیڑا اتارنے کے بعد اسالٹ شپ اور پیٹرائٹ میزائل دفاعی نظام تعینات کیے تھے۔