ورلڈ کپ: وسیم اکرم کی محمد عامر سے بہت اُمیدیں وابستہ

قومی کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان وسیم اکرم کا کہنا ہے کہ 92 کے ورلڈ کپ میں نیوزی لینڈ کی ٹیم پہلا میچ پاکستان سے ہاری تھی اور اب کی بار بھی وہی صورتحال ہے لیکن اس بار ہمیں محتاط رہنا ہوگا اور محمد عامر کو وہی کردار ادا کرنا ہوگا جو انہوں نے 92 کے ورلڈ کپ میں نبھایا…

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے سوئنگ کے سلطان وسیم اکرم نے کہا کہ 1992 کے ورلڈ کپ میں بھی نیوزی لینڈ کی ٹیم پہلا میچ پاکستان سے ہاری تھی اور امید ہے کہ اس بار بھی ایسا ہی ہوگا، ہمیں اپنے تینوں میچز جیتنے ہوں گے۔

وسیم اکرم نے کہا کہ پاکستان کو ہمیشہ نیوزی لینڈ پر نفسیاتی برتری حاصل رہی ہے، آج کے میچ میں ٹرینٹ بولٹ کو پہلے 5 اوورز میں کوئی وکٹ نہیں دینی خواہ اس کے اوورز میں ہمیں 12 رنز ہی کیوں نہ ملیں، بولٹ نئی گیند کے ساتھ 2 یا تین سلپ لے کر باﺅلنگ کرائے گا اس لیے باہر جاتی ہوئی گیند کو نہیں چھیڑنا، اگر اہم باﺅلر کو ہی وکٹ نہیں ملے گی تو باقی گیند بازوں پر بھی پریشر بنے گا جس سے باﺅلر مجبور ہوجائیں گے کہ وہ آپ کے گیم پلان کے مطابق باﺅلنگ کریں۔

محمد عامر کے قومی ٹیم میں کردار پر گفتگو کرتے ہوئے وسیم اکرم نے کہا کہ انہوں نے ہمیشہ ہی عامر کو سپورٹ کیا ہے کیونکہ انہیں پتہ تھا کہ اس کو وکٹ مل گئی تو یہ ردھم میں واپس آجائے گا، عامر کی لینتھ کافی بہتر ہے اور امید ہے کہ وہ وہی کردار ادا کرے گا جو میں نے 92 میں نبھایا تھا۔