چوہا لایا ایچ آئی وی ایڈز کیلئے خوشخبری

طبی تاریخ میں پہلی مرتبہ ایک جانور(چوہے) میں ایچ آئی وی کو مکمل طور پر ختم کرنے کا میاب تجربہ کیا گیا ہے۔ ماہرین نے اس اہم کام کو دو مراحل میں انجام دیا ہے۔
 ماہرین نے چوہے کے جینوم (جینیاتی سیٹ)  نئی ٹیکنالوجی کے ذریعے تبدیلیاں بھی کیں ہیں۔ پہلے مرحلے میں لانگ ایکٹنگ سلو ایفیکٹوو ریلیز ( لیزر) کا عمل کیا گیا ہے جو اینٹی ریٹرو وائرل تھراپی کی ایک قسم ہے۔
اس کے بعد کرسپر، سی ایس نائن جین ایڈیٹنگ ٹیکنالوجی کے ذریعے وائرس سے متاثرہ ڈی این اے نکال دیا گیا۔ ماہرین نے اس سارے عمل کی تفصیل مشہور سائنسی جریدے نیچر میں پیش کی ہے۔ واضح رہے کہ چوہے میں انسانی ایچ آئی وی موجود تھا۔
ماہرین نے بتایا ہے کہ خلیات (سیل) اور بافتوں (ٹشوز) سے وائرس نکالنے کا کام کیا اور ایک تہائی جانوروں میں کامیابی ملی ۔ یہ تجربہ کامل خلیلی اور ان کے ساتھیوں نے کی ہے جو لیوس کاٹز اسکول آف میڈیسن میں تحقیق کررہے ہیں۔
اگر ان طریقوں پر عمل نہیں کیا تو وائرس دوبارہ اٹیک ہونے کے 100 فیصد خدشات تھے۔ اسی لیے کرسپر سی ایس نائن اور اینٹی ریٹرو وائرل تھراپی کو ایک ساتھ آزمایا گیا اور یوں چوہے سے ایچ آئی وی 100 فیصد ختم ہوگیا،‘ پروفیسر کامل خلیلی نے کہا۔
عالمی اداروں کے مطابق صرف 2017 میں پوری دنیا میں ایچ آئی وی کے ساتھ رہنے والے لوگوں کی تعداد تین کروڑ 69 لاکھ تھی اور اسی سال مزید 18 لاکھ لوگوں میں یہ وائرس منتقل ہوگیا۔ ضروری نہیں کہ ایچ آئی وی سے ایڈز کا مرض لاحق ہو لیکن اس وائرس سے حامل افراد ایڈز کا شکار ہونے کا خطرہ زیادہ  ہوسکتے ہیں۔
ایڈز کا وائرس جسمانی رطوبتوں اور خون کی منتقلی کے ذریعے پھیلتا ہے اور امنیاتی نظام کو تباہ کردیتا ہے۔ ایڈز کے مریض کا علاج نہ کروائیں تو بمشکل تین یا چار برس تک ہی زندہ رہ سکتے ہیں۔