بیکٹیریا کی آواز سننے والی انقلابی ٹیکنالوجی

ڈاکٹر فاطمہ زہرا الاتراکشی نے ایک حیرت انگیز ٹیکنالوجی تیار کی جس سے خطرناک بیکٹیریا کی آواز سنی جاسکتی ہے۔
بیماریوں پھیلانے والے بیکٹیریا کی  ایک انقلابی ٹیکنالوجی وضع کی گئی ہے جس کے زریع ماہرین اب بیماری پھیلانے والے بیکٹیریا کے آوازآسانی سے ’سن‘ سکتے ہیں۔ اس کے زریع اینٹی بایوٹک دواؤں کی مزاحمت (اینٹی بایوٹکس ریزسسٹنس) کا بھی پتا لگایا جاسکتا ہے جو اس وقت ماہرین کے لیے سب سے بڑا چیلنج ہے۔
ڈاکٹر فاطمہ زہرا الاتراکشی کا یہ تیارکردہ انفیکشن کا پتا صرف 30 میں لگایا سکتا ہے۔ پھیپھڑوں کے انفیکشن کا پتا بھی اس سے لگایا جاسکتا ہے۔ اس طرح ماہرین  یہ معلوم کرسکتے ہیں کہ بیکٹیریا اپنی تعداد بڑھا رہے ہیں اور کب وہ حملہ آور ہوں گے۔ اس طرح انفیکشن کو جان لیوا بننے سے پہلے ہی روکا جاسکے گا۔
واضح رہے کہ اس ٹیکنالوجی پر مبنی ٹیسٹ ابھی زیرِ تکمیل ہے۔ لیکن امید ہے کہ ایک معمولی نمونے سے ماہرین اس انفیکشن کی نوعیت اور بیکٹیریا کا برتاؤ معلوم کر سکتے ہیں، کہ یہ کونسی دواؤں سے ٹھیک ہوسکتا ہے اور کونسی اینٹی بایوٹکس اس پر ناکارہ ثابت ہوں گی۔ لیکن یہ سارا کام صرف ایک منٹ سے بھی کم وقت میں ہوجائے گا۔یہ نظام پیشاب کی نالی کے انفیکشن سے لے کر جان لیوا پھیپھڑوں کے مرض تک کے لیے مؤثر ہے۔ اس سے بیکٹیریا کی باتیں سنتے ہوئے علاج کی راہ ہموار کرتا ہے۔
فاطمہ زہرا نے پری ڈائیگنوس نامی ایک کمپنی بنائی ہے جو بیکٹیریا کی شناخت کو نئے انقلاب سے دوچار کرے گی۔ ڈاکٹر فاطمہ زہرا کے مطابق ڈاکٹر اس وقت درست  علاج کرسکتے ہیں کہ اگر بیکٹیریا کی سرگرمی معلوم ہوجائے تو جس سے وقت اور وسائل کی بچت ہوتی ہے۔
بیکٹیریا خاص قسم کے سالمات خارج کرکے ایک دوسرے سے باتیں کرتے ہیں اور اگر زیادہ سالمات خارج ہورہے ہیں تو وہ ظاہر کرتے ہیں کہ ان کی تعداد بہت زیادہ ہے۔