آئی ایم ایف کا پاکستان قوم کے لیے ایک ایسا اقدام، عوام خوشی سے نہال

پاکستان کو آئی ایم ایف سے 1 ارب ڈالر کی پہلی قسط آج ملنے کا امکان ہے۔
آئی ایم ایف نے گزشتہ ہفتے پاکستان کیلئے6 ارب ڈالرقرض کی منظوری دی تھی جس کی پہلی قسط 1 ارب ڈالر آج موصول ہونے کا امکان ہے، قرض پروگرام کے تحت پاکستان کو سالانہ 2 ارب ڈالر ملیں گے ،رقم سے پاکستانی زرمبادلہ کے ذخائر پر دباﺅ میں کمی آئے گی ،پاکستان کو آئی ایم ایف سے قرض توسیعی فنڈسہولت کے تحت ملیں گے ۔
انہوں نے بتایا کہ حکومت کو 6 ارب ڈالر کے ایکسٹینڈڈ فنڈ فیسلیٹی (ای ایف ایف) کے تحت رواں ہفتے ایک ارب ڈالر کی رقم موصول ہونے کی توقع ہے جس سے مختصر مدت میں غیر ملکی زرِ مبادلہ میں اضافہ ہوگا۔
تاہم گزشتہ 6 ارب 40 کروڑ ڈالر کے ای ایف ایف کی ادائیگی کا آغاز بھی ہوچکا ہے، گزشتہ ای ایف اف کے تحت آئی ایم ایف کی جانب سے 14-2013 میں ادائیگیوں کا آغاز ہوا تھا جو 2016 میں مکمل ہوگئیں تھی اور اب ان کی واپسی مارچ 2019 سے شروع ہوئی ہے جو جون 2026 تک جاری رہے گی۔
لہٰذا 3 سال کے دوران پاکستان کو رواں مالی سال میں 2 ارب 30 کروڑ ڈالر ملیں گے جس کے بعد اگلے سال ایک ارب 84 کروڑ 70 لاکھ اور مالی سال 22-2021 میں ایک ارب 84 کروڑ 70 لاکھ موصول ہوں گے۔
رواں مالی سال کے دوران پاکستان کو ایک ارب 4 کروڑ 50 لاکھ ڈاکر واپس ادا کرنے ہیں جس کے بعدایک ارب 16 کروڑ 70 لاکھ ڈالر اور سال 22-2021 میں ایک ارب 6 کروڑ ڈالر کی رقم لوٹانی ہوگی۔
اس کا مطلب پاکستان کو رواں مالی سال ایک ارب 26 کروڑ ڈالر آئندہ مالی سال میں 68 کروڑ ڈالر اور مالی سال 22-2021 میں 78 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کی کی رقم موصول ہوگی
اس کے برعکس مالی سال 23-2022 میں آئی ایم ایف فنڈ کی جانب سے کوئی رقم حاصل نہیں ہوگی البتہ 53 کروڑ 20 لاکھ ڈالر کی رقم واپس ضرور کرنا ہوگی۔
چنانچہ سال 23-2022 تک پاکستان کو مجموعی طور پر 6 ارب ڈالر کا فنڈ موصول ہوچکا ہوگا جس میں سے 4 ارب 90 کروڑ ڈالر واپس بھی کیے جاچکے ہوں گے یوں 5 سال کی مدت میں ملنے والی کل رقم ایک ارب 10 کروڑ ڈالر ہوگی۔