آئی ایم ایف نے پاکستان کی معشت پر رپورٹ جا ری کر دی

آئی ایم ایف کی رپورٹ میں بتایا گیا ہےکہ پاکستان کو آئندہ ماہ بجلی کے ریٹس ڈھائی روپے فی یونٹ بڑھانا ہوں گے، پاکستان نے بجٹ میں 733 ارب 50 کروڑ روپے کے نئے ٹیکس لگائے ہیں، پارلیمنٹ کو بتایا گیا کہ 516 ارب روپے کے ٹیکس لگائے گئے ہیں جو حقیقت میں 733 ارب 50 کروڑ روپے کے تھے۔
پاکستان کو ستمبر تک ایک ہزار ارب روپے کے ٹیکسز جمع کرنا ہوں گے۔رپورٹ کے مطابق پاکستان کو ستمبر تک ایک ہزار ارب روپے کے ٹیکسز جمع کرنا ہوں گے، پاکستان کو اپنی معیشت کی بہتری کے لیے 25 ارب ڈالرز کی ضرورت ہے، مئی سے کرنسی کی شرح تبادلہ مارکیٹ طے کررہی ہے لیکن اسٹیٹ بینک اسے ماننے کو تیار نہیں۔آئی ایم ایف نے پاکستان کیلئے 6 ارب ڈالرز قرض کی منظوری دیدی۔
رپورٹ میں کہا گیا ہےکہ آئی ایم ایف کا پیکج مکمل ہونے تک پاکستان کوئی نئی ایمنسٹی اسکیم نہیں لا سکے گا جب کہ پاکستان کو فنانشل ایکشن ٹاسک فورس (ایف اے ٹی ایف) کے 27 نکات پر عملدرآمد کو یقینی بنانا ہوگا۔
رپورٹ کے مطابق رئیل اسٹیٹ سیکٹر او زرعی آمدن پر ٹیکس لگانے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے، ٹیکس مراعات اور چھوٹ ختم کرنے پر اتفاق ہوا ہے، پراپرٹی کی قیمتیں مارکیٹ ویلیو کے قریب لانے کی یقین دہانی کرائی گئی ہے۔
پاکستان نے سگریٹ، چینی اور سیمنٹ پر ایکسائز ڈیوٹی بڑھانے کا فیصلہ کیاہے۔رپورٹ میں مزید بتایا گیاہےکہ پاکستان نے ٹیکسوں کی شرح میں جی ڈی پی کا 4 سے 5 فیصد بڑھانے پر اتفاق کیا ہے، پاکستان نے سگریٹ، چینی اور سیمنٹ پر ایکسائز ڈیوٹی بڑھانے کا فیصلہ کیاہے، پاکستان نے درآمدی گیس اور لگژری اشیاء پر ایڈیشنل کسٹمز ڈیوٹی بڑھانے کا فیصلہ کیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اسٹیٹ بینک اور نیپرا کی خود مختاری کا بل دسمبر 2019 میں پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا، بجلی کی قیمت کا نیا ٹیرف اگست 2019 میں جاری کیا جائے گا، اوگرا کی خود مختاری کا ترمیمی بل پارلیمنٹ میں پیش کیا جائے گا، نیپرا 2020 کے بجلی ٹیرف کا اعلان ستمبر 2019 میں طے کرے گا، پاکستان گیس سیکٹر کے واجبات کی وصولی یقینی بنائے گا، گیس واجبات کی وصولی کا پلان ستمبر 2019 میں پیش کیا جائے گا۔
آئی ایم ایف کی رپورٹ میں کہا گیا ہےکہ پاکستان نے بجلی کی پوری پیداواری قیمت صارفین سے وصول کرنے کا فیصلہ کیا ہے، بجلی کی پوری قیمت وصول کرنے سے گردشی قرضہ ختم ہوگا۔رپورٹ کے مطابق رواں سال مہنگائی کی شرح 13 فیصد تک جائے گی، اگلے سال پاکستان میں مہنگائی کی شرح 8.3 فیصد رہے گی، رواں سال پاکستان کا بجٹ خسارہ 7.3 فیصد اور اگلے سال خسارہ 5.4 فیصد رہے گا۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہےکہ پاکستان کو ایف اے ٹی ایف کی سفارشات پر اکتوبر 2019 تک عمل کرنا ہوگا، 2020 میں قرضوں کی شرح بلحاظ جی ڈی پی 80.5 فیصد تک پہنچ جائے گی،2024 میں قرضوں کی شرح بلحاظ جی ڈی پی 67 فیصد تک پہنچ جائے گی، 2024 میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ جی ڈی پی کے 2 فیصد سے کم ہوجائے گا، سماجی شعبے کے تحفظ کے لیے بجٹ میں 50 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔