آخرامام الحق نے تنقید کرنے والوں کو جواب دے ہی دیا

پاکستان کرکٹ ٹیم کے اوپننگ بلے باز امام الحق نے کہا ہے کہ کھلاڑیوں کا کام کارکردگی دکھانا ہے جبکہ باقی فیصلے پاکستان کرکٹ بورڈ (پی سی بی) کو کرنے ہیں اور ان کے فیصلے ہمیشہ بہتر ہوتے ہیں، ہمارا پہلا ورلڈکپ تھا تو ہمیں سیکھنے میں ابھی وقت لگے گا۔

تفصیلات کے مطابق لاہور میں پریس کانفرنس کے دوران پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں امام الحق نے کہا کہ ہمارا کام کارکردگی دکھانا ہے اور کوشش کرتے ہیں کہ کسی بھی کوچ کے زیر سایہ کھیلیں گے تو اچھے طریقے سے کھیلیں، روہت شرما نے اس ٹورنامنٹ میں اچھی بیٹنگ کی ہے لیکن ہمارا پہلا ورلڈکپ تھا تو ہمیں تھوڑا سا وقت لگے گا، تھوڑا وقت دیں۔

ان کا کہنا تھا کہ روہت شرما کے 200 سے اوپر میچ ہیں اور ہم نے ابھی بہت کم میچ کھیلے ہیں تو ان کیساتھ ہمارا موازنہ کرنا کافی جلدی ہے، ایسا نہیں ہوتا کہ آپ 60 سے 70 میچ کھیلیں اور ویرات کوہلی جیسی کارکردگی دکھانا شروع کر دیں، انہوں نے بھی بہت غلطیاں کیں اور کارکردگی نہیں دکھائی لیکن انہیں سپورٹ اور اعتماد ملا، تین یا چار سال سے ان کے اوپنرز تبدیل نہیں ہوئے، اگر ہمارے کھلاڑی کو بھی میڈیا اور لوگوں سے ایسی سپورٹ ملے تو کافی اچھی کارکردگی آ سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کسی کا دل نہیں کرتا وہ آﺅٹ ہو یا بری باﺅلنگ کرے، بھارت کے ہاتھوں شکست پر ہمیں بھی بہت برا لگتا ہے کیونکہ ہمیں معلوم ہے کہ عوام کس طرح کے جذبات رکھتے ہیں، ہم یہی کہہ سکتے ہیں کہ جلد از جلد اپنی کارکردگی بہتر بنائیں، ہاں! اگر میں 100 سے 200 ون ڈے انٹرنیشنل میچ کھیلنے کے بعد کہوں کہ مجھے سے غلطی ہوئی ہے تو یہ غلط بات ہو گی