ایرانی کشتیوں نے تیل بردار جہاز کو قبضے میں لینے کی کوشش کی: برطانیہ کا الزام

امریکااوربرطانیہ نے خلیج فارس میں ایرانی انقلابی گارڈز کی کشتیوں کی جانب سے برطانوی تیل بردار جہاز کو قبضے میں لینےکی کوشش کرنے کا الزام لگادیا، ادھر ایران نے بھی الزامات کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ گزشتہ چوبیس گھنٹوں کے دوران برطانیہ سمیت کسی ملک کے جہاز کے ساتھ آمنا سامنا نہیں ہوا۔
برطانیہ کی جانب سے ایرانی آئل ٹینکر کو قبضے میں لینے کے بعد دونوں ممالک میں تعلقات کشیدہ ہوگئے۔
برطانوی حکومت نے امریکی ایما پر دعویٰ کیا ہےکہ تین ایرانی کشتیوں نےبرطانوی آئل ٹینکر کے راستے میں رکاوٹ ڈالنےکی کوشش کی۔ جس پر برطانوی آئل ٹینکر کی جانب سے ایرانی کشتیوں کو متنبہ کیا گیا۔ادھرامریکی میڈیا کے مطابق امریکی حکام کا کہنا ہےکہ برطانوی ٹینکر کو روکنے والی کشتیوں کاتعلق ایران کے انقلابی گارڈ سے ہے جس کے اہلکاروں نے مشرق وسطیٰ کے آبنائے ہرمز میں آئل ٹینکر تک پہنچنے کی کوشش کی۔ادھرایران کی جانب سےامریکی اوربرطانوی حکام کےدعوےکومضحکہ خیز قراردیتے ہوئےکہنا تھا کہ بدھ سے جمعرات کے دوران ایرانی کشتیوں کا برطانیہ سمیت کسی ملک کے تیل بردار جہازوں سے آمنا سامنا نہیں ہوا۔ایرانی انقلابی گارڈز کے ترجمان کے مطابق انقلابی گارڈز کی کشتیاں آبنائے ہرمز اور خلیج فارس کے علاقے میں گشت پر رہتی ہیں،اور علاقے میں صورتحال پر نظر رکھے ہوئے ہیں۔ایران کے وزیر خارجہ جواد ظریف نے اپنے ردعمل میں کہا ہے کہ بے بنیاد الزامات کا مقصدصرف کشیدگی کو بڑھانا ہے، ان کا کہنا تھا اس طرح کے الزامات لگانے والوں کا مقصد صرف اپنے کمزور نقطہ نظر کی تحفظ کرنا ہےایسے الزامات کی کوئی حیثیت نہیں۔