آٹے اور میدے پر کسی قسم کا ٹیکس نہیں, سیلز ٹیکس سے متعلق افواہیں ہیں: چئیرمین ایف بی آر

چئیرمین ایف بی آر شبرزیدی کا کہنا ہے کہ آٹے اور میدے پر کسی قسم کا ٹیکس نہیں ہے اور سیلز ٹیکس سے متعلق بھی افواہیں پھیلائی جارہی ہیں، ایسا فیصلہ نہیں چاہتے کہ معیشت یا صنعت کو نقصان پہنچے۔
تفصیلات کے مطابق چیئرمین ایف بی آرشبر زیدی نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا آٹا اور میدے پر کسی قسم کا ٹیکس نہیں ہے ، سی این آئی سی کی ضرورت سیلزٹیکس کیلئے ہے، آٹا، روٹی کی قیمت بڑھانا، ایسی کوئی چیز نہیں ہے۔
چیئرمین ایف بی آر کا کہنا تھا سی این آئی سی سے متعلق ابہام اور پروپیگنڈا کیاگیا، گزشتہ رات کراچی کے تاجروں سےشناختی کارڈ سے متعلق بات کی، لوگ شناختی کارڈ کی شرط کی آڑ میں اپنے ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں۔
شبرزیدی نے کہا زیرو ریٹنگ پر سیلز ٹیکس کا معاملہ 10سال بعد واپس آرہا ہے، مقامی یارن سے متعلق یکساں مواقع کیلئے اپٹمانے مطالبہ کیاہ ے، اپٹما کا مطالبہ ہے یارن درآمد کرنے دیا جائے، تمام فیصلوں کے اطلاق کیلئے تیار ہیں، مشاورت سے عملدرآمد ہوگا۔
ان کا کہنا تھا ہماراکسی سطح پرکسی سےکوئی ڈیڈلاک نہیں ہے، چھوٹےدکانداروں کیلئے فکس ٹیکس اسکیم لانے کیلئے تیار ہیں، چھوٹا دکاندار کون ہے، اس کا تعین کرنا ابھی باقی ہے۔
چیئرمین ایف بی آر نے کہا تاجروں سےتمام مذاکرات2بنیادی چیزوں پرہوئے، ایک ایس آر او1125 اور دوسرا شناختی کارڈ کا مسئلہ تھا، سیلز ٹیکس سے متعلق بھی افواہیں پھیلائی جارہی ہیں، زیروریٹنگ پرمختلف لوگوں کے مختلف زاویے دیکھ رہے ہیں۔
شبرزیدی کا مزید کہنا تھا ایساف فیصلہ نہیں چاہتے کہ معیشت یا صنعت کو نقصان پہنچے، شناختی کارڈ کا مسئلہ ختم ہوچکا ہے، کراچی میں موبائل والے ڈیوٹیز زیادہ لگنے پر بات کررہے ہیں۔