سوڈان میں ایک اور فوجی بغاوت کی کوشش ناکام

سوڈان میں پہلی بغاوت کے بعد اقتدار پر قابض عسکری قیادت نے اعلان کیا ہے کہ انہوں نے ایک اور بغاوت کی کوشش ناکام بنا دی ہے۔
ایک پریس کانفرنس میں 12 افسران کو گرفتار کرنے کا دعوٰی کرتے ہوئے حکمران عسکری قیادت نے کہا کہ بغاوت کی کوشش کرنے والے فوج اور سیاسی جماعتوں میں ہونے والی مفاہمت سے ناخوش تھے۔
خیال رہے کہ سوڈان میں گزشتہ برس دسمبر سے حالات کشیدہ ہیں، عوام نے مہنگائی کی وجہ سے اُس وقت کی حکمران جماعت کے خلاف احتجاج شروع کیا تھا اور حکمران جماعت کے ہیڈکوارٹر کو نذر آتش کردیا تھا۔
وقت کے ساتھ ساتھ 26 برس تک اقتدار میں رہنے والے صدر عمر البشیر کیخلاف عوامی غصہ مزید بڑھ گیا اور پرتشدد مظاہروں میں اضافہ ہوگیا جس کے بعد رواں برس اپریل میں فوج نے ملکی کشیدہ صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حکومت کا تختہ الٹ دیا اور اقتدار پر قبضہ کرلیا۔
اب مہنگائی کیخلاف مظاہرہ کرنے والے سوڈانی عوام نے اپنے احتجاج کا رخ فوجی آمریت کی طرف موڑ دیا ہے۔
سوڈان میں لوگ سول انتظامیہ کی بحالی کا مطالبہ کررہے ہیں جس کی وجہ سے آئے دن مظاہرین اور فورسز میں جھڑپیں ہوتی رہتی ہیں جن میں اب تک درجنوں افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔