سخت معاشی مشکلات، پاکستان کو 6 ارب ڈالر کا جرمانہ کردیا گیا

ریکوڈک کیس میں عالمی بینک کے انٹرنیشنل سنٹر فارسیٹلمنٹ آف انویسٹمنٹ ڈسپیوٹس (آئی سی ایس آئی ڈی) نے پاکستان کو 6 ارب ڈالر (تقریباً 944 ارب روپے) کا جرمانہ عائد کردیا ہے ۔ یہ جرمانہ آئی سی ایس آئی ڈی کی تاریخ کا اب تک کا سب سے بڑا جرمانہ ہے۔
 آئی سی ایس آئی ڈی نے جمعہ کے روز پاکستان کے خلاف ریکوڈک کیس میں 700 صفحات پر مشتمل فیصلہ جاری کیا ہے جس کے مطابق پاکستان کو مجموعی طور پر 5 اعشاریہ 976 ارب ڈالر ادا کرنے ہوں گے۔ پاکستان کو 4 اعشاریہ 08 ارب ڈالر جرمانہ کیا گیا ہے اور اسے 1 اعشاریہ 87 ارب ڈالر سود کی مد میں ادا کرنا ہوں گے۔پاکستان کی جانب سے اس جرمانے کے خلاف نظر ثانی کی اپیل دائر کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے جس کا فیصلہ آنے میں مزید 2 سے تین سال لگ سکتے ہیں۔
چلی اور کینیڈا سے تعلق رکھنے والی ٹیتھیان کاپر کمپنی نے آئی سی ایس آئی ڈی میں پاکستان کے خلاف 11 اعشاریہ 43 ارب ڈالر کے ہرجانے کا دعویٰ دائر کیا تھا۔ یہ دعویٰ2012 میں اس وقت دائر کیا گیا تھا جب بلوچستان حکومت نے کمپنی کے ساتھ معاہدے سے انکار کردیا تھا۔ سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری کی جانب سے ریکوڈک کیس میں سنایا جانے والا فیصلہ اس طویل قانونی جنگ کی اہم کڑی تھا جس کے باعث پاکستان کو اتنے بھاری جرمانے کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
سپریم کورٹ نے 2013 میں ریکوڈک کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے ٹیتھیان کمپنی کا معاہدہ منسوخ کردیا تھا جس پر آئی سی ایس آئی ڈی نے کیس کے شروع میں ہی پاکستان کو ہرجانے کی ادائیگی کا حکم دیا تھا۔ پاکستان یہ کیس پہلے ہی ہار چکا تھا لیکن اس کا فیصلہ آنے میں اتنا عرصہ اس لیے لگا کیونکہ جرمانے کی رقم کا فیصلہ ہونا باقی تھا۔