جج ارشد ملک ویڈیو کیس: مریم نوازشریف بھی ملزم کی حمایت میں بول پڑیں

جج ارشد ملک کی ویڈیو بنانےوالے مرکزی ملزم میاں طارق کی گرفتاری پر مسلم لیگ ن کی نائب صدر مریم نواز کا کہنا ہے کہ حسین نواز کی تصویر لیک کرنے والوں کے خلاف بھی کارروائی ہو گی؟
تفصیلات کے مطابق مریم نواز نے جج ارشد ملک کی ویڈیو بنانے والے مرکزی ملزم میاں طارق کی گرفتاری کے ردّ عمل میں سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹوئٹر پر ٹوئٹ کیا کہ ’اچھا ہوا مگر اس ویڈیو کو جج کو دکھا کر بلیک میل کرنے اور نواز شریف کو بےگناہ ہوتے ہوئے بھی زبردستی سزا دلوانے والوں کو بھی پکڑا جائے گا؟ ‘اس کے علاوہ انہوں نے ایک اور ٹوئٹ میں سوال اٹھایا کہ ’حسین نواز کی تصویر لیک کرنے والوں کے خلاف بھی کارروائی ہو گی؟‘
 

حسین نواز کی تصویر لیک کرنے والوں کے خلاف بھی کاروائی ہو گی؟ https://t.co/rBq3stJazL
— Maryam Nawaz Sharif (@MaryamNSharif) July 17, 2019
واضح رہے کہ رواں سال 6 جولائی کو مریم نوازنے پریس کانفرنس میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کو سزا سنانے والے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی ایک ویڈیو جاری کی جس میں مبینہ طور پر یہ بتایا گیا کہ احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کو نواز شریف کو سزا سنانے کے لیے بلیک میل کیا گیا۔اس بنیاد پر مریم نواز نے یہ مطالبہ کیا کہ چونکہ جج نے خود اعتراف کرلیا ہے لہٰذا نواز شریف کو سنائی جانے والی سزا کو کالعدم قرار دے کر انہیں رہا کیا جائے۔جج ارشد ملک نے ویڈیو جاری ہونے کے بعد اگلے روز ایک پریس ریلیز کے ذریعے اپنے اوپرعائد الزامات کی تردید کی اور مریم نواز کی جانب سے دکھائی جانے والی ویڈیو کو جعلی۔ فرضی اور جھوٹی قرار دیا۔جج ارشد ملک کا ایک بیان حلفی بھی منظر عام پر آیا جس میں انہوں نے دعویٰ کیا کہ نوازشریف کے صاحبزادے حسین نواز نے انہیں رشوت کی پیشکش کی۔