چہرے پر جھریاں اور لکیریں صحت کے بارے میں کس خاص بات کا پتہ دیتی ہیں؟

ویسے تو اپنے چہرے پر جھریاں دیکھنا کس کو اچھا لگتا ہوگا ؟ خاص طور پر اگر عمر بھی زیادہ نہ ہو یا درمیانی عمر ہو۔ مگر کیا آپ کو معلوم ہے کہ چہرے پر قبل از وقت ابھر آنے والی یہ لکیریں صحت میں مسائل کا بھی اشارہ دیتی ہیں؟
جی ہاں واقعی چہرے کے مختلف حصوں میں نمودار ہونے والی جھریاں یا لکیریں کئی خطرناک امراض کی علامت ہوسکتی ہیں۔
امراض قلب کا خطرہ
ایسے افراد جن کی پیشانی پر جھریاں یا یوں کہہ لیں لکیریں بہت گہری ہوتی ہیں، ان میں دل کی ایک بیماری ایتھیروسلی روسس (جس کے دوران شریانیں اکڑ جاتی ہیں) کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے یا یوں کہہ لیں کہ یہ اس مرض کی ابتدائی نشانی بھی ہوسکتی ہے، شریانوں کی یہ اکڑن بتدریج زیادہ سنگین امراض قلب کا روپ اختیار کرلیتی ہے، ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ جن افراد کی پیشانیوں پر یہ لکیریں بہت زیادہ نمایاں ہوتی ہیں، ان میں امراض قلب سے موت کا خطرہ بہت زیادہ ہوتا ہے۔
ہائی بلڈ پریشر کا عندیہ
اگر درمیانی عمر میں ہی چہرے سے بڑھاپا جھلکنے لگا ہے تو یہ ہائی بلڈپریشر کی علامت بھی ہوسکتی ہے، ایک تحقیق میں دریافت کیا گیا تھا کہ جو خواتین چہرے سے اپنی اصل عمر سے زیادہ کم عمر نظر آتی ہیں، وہ چہرے کی نگہداشت کرتی ہیں اور ان میں بلڈپریشر کی سطح کم ہوتی ہے۔ تحقیق کے مطابق جلد کا خیال رکھنے والے افراد اپنی صحت کا بھی دھیان رکھتے ہیں، جبکہ کم عمری میں جھریاں ابھر آئی ہیں تو بہتر ہے کہ اکثر بلڈپریشر چیک کراتے رہیں۔
ناقص طرز زندگی
جوانی میں ہی چہرے پر ابھر آنے والی لکیریں اس بات کا بھی عندیہ ہوتی ہیں کہ آپ کا طرز زندگی صحت مند نہیں، تحقیقی رپورٹس کے مطابق ناقص غذا، ناکافی ورزش اور جلد کا خیال نہ رکھنے والے میں جھریاں جوانی میں سامنے آجاتی ہیں اور یہ نشانی ہے کہ آپ صحت مند نہیں۔
ہڈیوں کی کمزوری
چہرے کی جھریاں ہڈیوں کے بھربھرے پن کا عندیہ بھی ہوسکتی ہیں، امریکا کی یالے یونیورسٹی کی تحقیق میں دریافت کیا گیا کہ چہرے اور گلے کی جھریاں اور ہڈیوں کی کثافت میں تعلق موجود ہے، محققین نے دریافت کیا گیا کہ جیسے جیسے جھریاں گہری ہوتی جاتی ہیں، اتنی ہی ہڈیاں کمزور ہونے لگتی ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ جلد اور ہڈیاں دونوں کولیگن نامی پروٹین پر انحصار کرتے ہیں جو عمر کے ساتھ گھٹنے لگا ہے، اس پروٹین کی جسم میں کم سطح جینیاتی بھی ہوسکتی ہے اور ناقص طرز زندگی کا باعث بھی۔
ذہنی تناﺅ
ویسے تو زیادہ مسکرانا بھی اس کا باعث ہوسکتا ہے مگر پیشانی پر جھریاں اور بھنوﺅں کے درمیان لکیریں ذہنی تناﺅ کی علامت بھی ہوسکتی ہیں۔ ایک تحقیق کے مطابق جسم میں تناﺅ کا باعث بننے والے ہارمون کورٹیسول کی سطح میں اضافے یہ لکیریں اور جھریاں نمودار ہوتی ہیں، اس ہارمون کی سطح میں اضافہ موٹاپے، ہائی بلڈ پریشر اور ذیابیطس جیسے امراض کا خطرہ بھی بڑھاتا ہے۔
ڈیوائسز پر بہت زیادہ وقت گزارنا
موجودہ عہد میں نوجوانوں میں اسمارٹ فونز اور دیگر ڈیوائسز کا استعمال بہت زیادہ بڑھ گیا ہے جس کے نتیجے میں ابرو اور بھنوﺅں کے درمیان لکیریں نمایاں ہوجاتی ہیں، طبی ماہرین کے مطابق اس طرح کی لکیروں کے نمودار ہونے کی وجہ زیادہ وقت ڈیوائسز کی اسکرینیں گھورتے ہوئے گزارنا ہے۔