آٹھ ایسی خطرناک بیماریاں جن سے خواتین ناآشنا

چند ایسی خطرناک بیماریاں جو ہر عورت کے علم میں ہونی چاہیے۔
عورتوں کو مختلف بیماریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ مگر کچھ بیماریاں عورتوں پہ الگ اور زیادہ مئوثر طریقے سے اثر انداز ہوتی ہیں جن مہں بریسٹ کینسر، رینج اور حمل سرِفہرست ہیں۔ ہارٹاٹیک سے مرنے والی خواتین کی شرح مردوں کی نسبت زیادہ ہے۔ ڈپریشن و پریشانی کی نشاندہی بھی خوتین میں زیادہ پائی جاتی ہے۔ وہ تمام بیماریاں جن کا خواتین کو سامنا کرنا پڑتا ہے منررجہ ذیل ہیں۔
1. دل کی بیماری:
امریکہ میں ہر چار میں سے ایک خواتین ہارٹ اٹیک کے باعث انتقال کر جاتی ہیں۔ اس کے برعکس عام عوام کی ریئے کے مطابق ہارٹ اٹیک سے مردوں اور عورتوں کی اموات کی شرح برابر ہے۔ 54 فیصد خواتین یہ جان پائی ہیں کہ دل کی بیماری خواتین کیلئے سب سے خطرناک سمجھ جاتی ہے۔ امریکہ میں 49 فیصد آناری ہائی بلڈ پریشر، ہائی کولیسٹرول،اور دل کی بیماریمیں مبتلا ہے۔
2. بریسٹ کیسنر:
بریسٹ کینسر کا مرض ایک وباہ کی طرح پوری دنیا کی خواتین کو اپنی لپیٹ میں لیتا جارہا ہے۔ امریکہ مین یس مرض میں مبتلا خواتین کی شرح بہت زیادہ ہے۔ وہ خواتین جو بریسٹ کینسر میں مبتلا ہیں انکو بریسٹ پر کٹھلیوں کا خطرہ لاحق ہے۔
3. متنوع اور عنقی کا کینسر:
کچھ لوگوں کو متنوع اور عنقی کے کینسر کے کینسر کے درمیان فرق نہیں معلوم ہے، وہ سمجھتے ہین کہ دونوں ایک ہی بیماری کے دو نام ہیں مگر ایسا نہیں ہے۔ عنقی کا کینسر رحم کے نچلے حصے کو متاثر کرتا ہے جبکہ متنوع اوپری حصے کو متاثرکرتا ہے۔ دونوں امراض سے پیدا ہونے والے اثرات ایک جیسے ہیں لیکن علاج مختلف ہے۔
4. جینی حیاتیاتی صحت:
خون کے بہائو کا زیادہ ہوجانا یا رک جانا ماہواری تسلسل کا حصہ ہوتا ہے، مگر ماہوراتی تسلسل کی کچھ علامات ایسی ہیں جو خراب حیاتیاتی نظام کی نشاندہی کرتی ہیں جس میں خون کے بہائو کا تیز ہو جانا، رک رک کر آنا یا سرے سے نا ہونا شامل ہے۔
5. حمل کے مسائل:
دمہ، ذیابیطس، ڈپریشن وپریشانی جیسے مرض حاملہ خواتین پر زیادہ تیزی سے اثر انداز ہوتے ہیں جو ماں اور بچے دونوں کیلئے نقصان دہ ہیں۔
6. آٹومیٹن کی بیماری:
جب WHITE BLOOD CELLS کی تعداد جسم میں کم ہوجاتی ہے تو وہ جراثیم سے حفاظت کرنا چھوڈ دیتے ہیں تو آٹومیٹن کی بیماری جنم لیتی ہے۔ مختلف ریسرچز ے مطابق یہ بیماری زیادہ تر خواتین میں پائی جاتی ہے۔ یس کی علامات میں درد، ہلکا بخار، جسم میں درد، جسم میں خارش اور تھیلے شامل ہیں۔
احتیاط:

میٹھی چیزوں سے پرہیز
ایسی غذائیں جو جسم میں fATS پیدا کریں ان سے پرہیز
ذہنی دبائو سے گریز
نشہ آور ادویات کا کم استعمال 

7. ڈپریشن وپریشانی:
ڈپریشن میں مبتلا خواتین کی شرح مردوں کی نسبت بہت زیادہ ہے۔ عموما حمل کے دوران کواتین کی زیادہ شرح ڈپریشن کا شکار ہوجاتی ہے۔ ضرورت سے زیادہ سوچنا اور بات بات پر جھگڑا کرنا ڈپریشن جیسے خطرناک مرض میں مبتلا کرتا ہے۔ ڈپرسیڈ انسان کجو اکیلے نہیں چھوڑنا چاہیے اسکے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گزارنا چاہیے۔ 
8. صحت پر مشتمل ایپس:
ٹیکنالوجی میں جدت کے ساتھ ساتھ کچھ ایسی ایپلیکیشنز بھی بنائیں گئیں ہیں جو صحت و تندرستی کے متعلق ہدایات فراہم کرتی ہیں۔ یہ امر لوگوں میں بیماریوں سے متعلق آگاہی پیدا کرنےکیلئے کیاگیا ہے۔پیدا کرنے کیلئے کیا گیا ہے۔ جہاں یہ ایپس ہر شخص کیلئے ہیں وہاں ہی خواتین کے مسائل کیلئے کچھ الگ ایپس بھی بنائی گئی ہیں جس کے ذریعے خواتین کے متعلو معلومات حاصل کرسکتی ہیں اور مختلف امراض میں ملوث ہونے کا خطرہ کم ہو سکتا ہے۔
چھوٹی چھوٹی بیماریوں کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیئے کییونکہ یہی چھوٹی بیماریاں خطرناک امراض میں ملوث کر دیتی ہیں۔ جسم پر کالے نیلے نشانات، جسم کا پھولنا، حیاتیاتی نظام میں گڑبڑ ہونے کی صورت میں ڑاکٹر سے رجوؑ کریں اور اپنے عکاج کو یقینی بنائیں۔