مولانا فضل الرحمان کا حکومت کیخلاف اسلام آباد کی طرف مارچ کا اعلان

جمعیت علمائے اسلام (ف) کے امیر مولانا فضل الرحمان نے وفاقی حکومت کو مستعفی ہونے کے لیے اگست تک کی مہلت دیدی۔
کوئٹہ میں ملین مارچ سے خطاب میں مولانا فضل الرحمان کا کہنا تھا کہ یہ ہمارا آخری ملین مارچ ہے اور اب ہمارا اگلا قدم اسلام آباد میں ہوگا۔
انہوں نے حکومت کو مہلت دیتے ہوئے کہا کہ وفاقی حکومت اگست میں استعفیٰ دے تو مارچ سے بچ جائے گی، اگر اگست میں استعفیٰ نہ دیا تو اکتوبر میں اسلام آباد کی طرف مارچ کریں گے، پورا ملک اسلام آباد کی طرف مارچ کرےگا اور یہ آزادی مارچ ہوگا۔
ان کا کہنا ہے کہ الیکشن دھاندلی زدہ ہیں اور اسے تسلیم نہیں کرتے، تمام سیاسی جماعتیں چاہتی ہیں کہ نئے انتخابات کرائے جائیں۔
جے یو آئی (ف) کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ایک طرف کمر توڑ مہنگائی ہے تو دوسری طرف ٹیکسوں کی بھرمار ہے، 50 ہزار روپے کی خریداری پر بھی شناختی کارڈ دینا ہوگا، یہ دستاویزی معیشت نہیں بلکہ غیر ملکی ایجنڈا ہے اور عالمی مالیاتی ادارے ہر گلی کوچے کے دکانداروں کی جیب تک پہنچنا چاہتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ نیب مشرف دور میں بھی احتساب کرتا رہا ہے اور ملک کے بچے بچے کو نیب کا کردار معلوم ہے، نیب کبھی ایسے بےنقاب نہیں ہوا جیسے موجودہ دور میں ہوا ہے۔